اورنگ آباد:22نومبر(جمیل شیخ):مراٹھا مسلم ریزرویشن کا مسئلہ آج بھی ریاستی اسمبلی میں موضوع بحث رہا۔سابقہ حکومت کی جانب سے مسلمانو ںکو دئے گئے ۵فیصد ریزرویشن کوجائز ٹھہراچکی ہے لیکن ریاستی وزیر تاﺅڑے نے اس معاملے پر گول مول بیان دیا جس کی ایم آئی ایم اراکین سید امتیاز جلیل اور وارث پٹھان نے سخت مخالفت کی اور کہا کہ اگر حکومت مراٹھوں کی طرح راستوں پر نکل کر آندولن کو پسند کرتی ہے اور سرکاری املاک کی تباہی وبربادی کے بعد کسی مسئلے پر غور کرنا اس کا شیوہ ہے تو موجودہ حکومت مسلمانو ںکا امتحان نہ لیںاور فوری طور پر مراٹھوں کے ساتھ مسلمانو ںکو دئے گئے ۵ فیصد ریزرویشن کو بحال کریں۔واضح رہے کہ ریاستی سطح کا سرمائی اجلاس جاری ہے۔ آج دوسرے اجلاس کے دوران ریزرویشن کا معاملہ زیر بحث رہا ایم آئی ایم اراکین وارث پٹھان اور امتیاز جلیل نے اعلان کے مطابق مسلمانوں کو بھی ۵ فیصد ریزرویشن دئے جانے کا مطالبہ کیا اور حکومت کو یاد دلایا کہ ہائی کورٹ مسلمانوں کے اس ریزرویشن کو جائز ٹھہراچکی ہے لیکن ریاستی کابیینہ کے ایک وزیر ونود تاﺅڑے نے اسمبلی میں یہ کہہ کر مسئلہ کو یہ کہہ کر گول کرنے کی کوشش کی کہ ریزرویشن کے مسئلہ کو ہائی کورٹ نے کچھ نہیں کہا ہے۔ امتیاز جلیل نے اجلا س کی کاروائی ختم ہونے کے بعد اعتماد نیوزوں سے بات چیت کی اور بتایا کہ موجودہ حکومت کا بھی مسلمانوں کی طرف دیکھنے کا نظریہ سابقہ حکومت کی طرح ہی ہے ۔موجودہ شیوسینا بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کا مسلمانوں کی طرف دیکھنے کا نظریہ انتہائی غلط ہے انہو ںنے کہا کہ اسمبلی میں کانگریس کے کچھ اراکین بھی ریزرویشن کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن وہ مسئلہ کو غلط انداز سے پیش کرکے اسے مزید پیچیدہ بنایا جارہا ہے۔ رکن اسمبلی امتیاز جلیل نے کانگریسوں سے سوال کیا کہ پچھلے ۵۱ سال تک مہاراشٹرا میں کانگریس این سی پی اتحادی برسرکار رہے ان دونوں نے مل کر ہی مراٹھا مسلم ریزرویشن سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ تو پھر ان حکومتوں نے مسلمانوں کو پہلے ہی ریزرویشن کیو ںنہیں دیا جبکہ ان اتحادیوں کے مقرر کردہ مختلف کمیشنوں نے حکومت کو رپورٹ پیش کی جس میں سے ایک رپورٹ میں تو مسلمانو ںکی حالت دلتوں سے بھی گئی گزری بتائی گئی۔رکن اسمبلی امتیاز جلیل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ریزرویشن کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں اور مسلمانوں کو دیا گیا پانچ فیصد ریزرویشن بحال کیا جائے گا۔اور اگر حکومت کے نزدیک ریزرویشن دینے کا پیمانہ احتجاج آندولن تحریک ہے تو اس مسئلے پر مسلمان بھی راستے پر آسکتے ہیں۔