ایمان و توکل اور صبر و استقامت کے ذریعہ حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا:محمد ضیاء الدین صدیقی (امیر وحدت اسلامی ہند)

اردھا پور ( شیخ زبیر ) اردھاپور میں محترم المقام محمد ضیاء الدین صدیقی (امیر وحدت اسلامی ہند) کی آمد کے موقع پر مسجد عمر فاروق میں معززان شہر کی ایک اہم نشست بلائی گئی تھی جس میں امیر وحدت اسلامی ہند نے موجودہ ملکی و بین الاقوامی حالات کے تناظر میں بحیثیت امت مسلمہ کے مسلمانوں کو اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔

فاضل مقرر نے کہا کہ”اللہ تعالی نے انسان کو اس دنیا میں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور اس کے طریقے بھی بتائیں۔دنیا میں ہر شخص کے لیے کوئی نہ کوئی چیز اہم ہوتی ہے لیکن مسلمانوں کے لیے قران وحدیث کے حوالے سے جو سب سے اہم چیز بتائی گئی ہے وہ اسکا ایمان ہے اور انسان اپنی جان بچانے کے لیے ہر چیز کو قربان کر سکتا ہے لیکن مسلمان اپنے ایمان کو بچانے کے لیے اپنی قیمتی جان کو بھی قربان کر سکتا ہے۔اسی لیے ہمیں ہماری ماضی کے ساتھ ساتھ حال پر بھی گہری نظر رہنی چاہیے۔”

حاظرین سے گفتگو کرتے ہوئے امیر وحدت نے کہا کہ”اللہ نے ہمیں اپنے سامنے اقامت صلوۃ کے ذریعے کھڑے رہنا کا حکم دیا ہے، جو رب اپنے سامنے کھڑے رہنے کا حکم دے رہ رہا ہے وہ ہمیں باطل اور طاغوت کے سامنے جھکنے کی اجازت کیسے دے سکتا۔”ملک کی سیاسی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے فاضل مقرر نے کہا کہ”طاغوت اپنی آمریت کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ملک میں جس طرح کی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے اس میں تنقید، اختلاف رائے یا اپوزیشن جیسے کسی چیز کا وجود ہی نہ ہو ۔ جب بھی حالات اپنے فطری تقاضوں کی طرف گامزن ہونے لگتے ہیں تو شیطان اپنے چیلوں کے ذریعے اسے دبانے اور ختم کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے لیکن اللہ تعالی اہل ایمان سے ایمان پر ثابت قدمی استقامت کا مطالبہ کرتا ہے اور ہمارا بھی فرضی بنتا ہے کہ حالات کی سختی میں اگر ہم حق گوئی نہیں کر پارہے ہیں تو کم از کم باطل کے حق میں زبان نہ کھولیں۔ ایسی کوئی بات نہ کہیں جو اہل ایمان کو کمزور اور باطل کو مضبوط کرنے کے لیے کارکر ثابت ہو رہی ہو۔یقینا موجودہ دنیا میں حق گوئی کسی معرکہ سے کم نہیں۔”

مہمان مقرر نے انبیائی زندگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے کہ حالات کی خرابی کے وقت انبیاء کا اسوہ کیا رہا ہے، اس جانب اگر توجہ نہیں دیں گے تو نتیجہ خراب ہوگا۔ضروری نہیں ہے کہ کسی قوم کی زندگی جس چیز میں ہو اسی میں ہماری بھی زندگی ہو، ممکن ہے اسی میں ہماری موت ہو۔

ہمیں اس دنیا میں مسافر کی حیثیت سے بھیجا گیا ہے اور مسافر کا کام بھی بتایا گیا ہے تمہیں سفر کیسے کرنا ہے اور سفر کا توشہ کیا ہے وہ بھی ہمیں بتایا گیا ہے لیکن بدقسمتی سے اتنے سخت حالات میں بھی آج ہماری پسند کھانے پینے اور دعوتوں سے زیادہ کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔”ملک کی موجودہ صورت حال اور اس کی سنگینی کا ذکر کرتے ہوئے امیر وحدت اسلامی نے کہا”ہم سے سب کچھ چھیناجا رہا ہے.جو چیز سب سے اہم ہمارے پاس باقی ہے وہ ہے ہمارا ایمان، اسے بھی ایک خاص مشن کے ذریعے چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر ہم بغیر۔ایمان کے اللہ کے پاس پیش ہوں گے تو ہمارا کیا حال ہوگا ،قیامت کی سختیاں، جہنم کا عذاب،میدان حشر کی پریشانیاں کیا ہمارا کوئی سہارا ہوگا؟لیکن اگر ان حالات میں ہم ایمان و توکل کے ساتھ استقامت اور مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو پھر دنیا و آخرت کی کامیابیوں کے وعدے ہم ہی سے وابستہ ہیں۔”

"ملکی و بین الاقوامی حالات کی سختیوں میں ہمارے لیے حل کیا ہے؟ اس پر اب بھی نہ سوچیں گے تو مستقبل میں ہم اور ہماری آنے والی نسلیں کس حیثیت میں ہوں گی؟اس کا اندازہ ہم کو بخوبی لگانا چاہیے۔ ہمیں ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ہمیں ہمیشہ اور ہر حال میں خدا کی طرف ہی پلٹنا ہوگا۔کیونکہ اللہ سے تعلق ایمان کی مضبوطی عطا کرتی ہے۔
آج بھی ہو جو ابراہیم سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازے گلستاں پیدا
آپ نے بھارت میں مسلمانوں کے لیے شدید ہوتے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا”سخت حالات میں اللہ و رسول اللہ اور ایمان و اسلام پر پختہ یقین ہونا چاہیے۔”ان حالات میں امت مسلمہ کی راہنمائی کرتے ہوئے کہا”اختلاف فطری عمل ہے دو بھائیوں کے درمیان اور دو اجتماعیتوں کے درمیان اختلاف ہو سکتا ہے لیکن باطل کے چڑھائے ہوئے رنگ کے ذریعے ہمیں ہمارے اختلاف کو دشمنی کی شکل میں نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ان حالات میں اتحاد ضروری ہے۔فروعی اختلافات میں صحیح و غلط کے بجائے وسعت کی سوچ ہونی چاہیے کہ رسول اللہ صلعم کا مسنون عمل ہے۔”

ایسے حالات میں جب کہ ملک میں مسلمانوں کے دین و ایمان پر ڈاکہ مارنے کی کوشش کی جارہی ہے،آپ نے کہا کہ”ہمیں اپنے ایمان کے تحفظ کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ایمان اگر توکل سے گزارتا ہے تو آزمائش سے بھی گزارتا ہے۔ تاریخ میں اس کی بہت ساری مثالیں ملتی ہیں۔
آپ حالات کی سختی اور آنے والی آزمائشوں کی حکمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ”قوموں کی زندگی میں آزمائشیں گناہوں کے کفارہ کے لیے بھی آتی ہیں اور اہل ایمان کو کندن بنانے کے لیے بھی اتی ہیں۔ہم مسلمانوں کو اپنی قیمت سمجھنی چاہیے کہ ہمارے بغیر دنیا کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

ہمیں ان حالات میں ہمت نہیں ہارنی چاہیے حالات کی سختیاں اہل ایمان کو پریشان ضرور کر سکتی ہے لیکن ختم نہیں کر سکتی۔اہل ایمان کے بغیر دنیا کا وجود باقی نہیں رہ سکتا اور نہ ہی ہمیں ان حالات میں ماضی کے حوالے سے زیادہ غمگین رہنے کی ضرورت ہے بلکہ ہماری غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے مستقبل کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے اور اگر ہم نے استقامت مظاہرہ کیا تو اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو تو یقینا اہل ایمان کا ہی غلبہ ہوگا۔جلسہ کی ابتدا حافظ صیام کی قرات اور شماس قاسم کی نعت سے ہوا۔نظامت کے فرائض رضوان الدین نے انجام دیے۔اخیر میں حافظ عبد الکریم(امام مسجد امیر علی) کی دعا پر نشست کا اختتام عمل میں آیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading