تھانے (آفتاب شیخ) ایس ٹی کارپوریشن ہر سال 5000 خود ملکیت لال پری بسیں خریدے گا اور لیز پر دینے کا عمل مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔ یہ اہم فیصلہ وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک کی صدارت میں منعقدہ ایس ٹی کارپوریشن کے کام کاج کے جائزہ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں کارپوریشن کے وائس چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر مادھو کوسیکر سمیت تمام شعبوں کے سربراہان نے شرکت کی۔
پرتاپ سرنائک نے ہدایت دی کہ بسیں خریدی کرتے وقت ایسی بسوں کی بھی معلومات لی جائے جو آئندہ پانچ سال کے دوران اسکریپ ہونے والی ہیں۔ اس سلسلے میں جامع مطالعہ کر کے ایک پانچ سالہ منصوبہ مرتب کیا جائے گا۔ مزید برآں، الیکٹرک بسوں کے لیے تمام ڈپوز میں چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کو ترجیح دی جائے گی۔
انہوں نے کارپوریشن کو آمدنی میں اضافے کے لیے ضمنی منصوبے پیش کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ ملازمین کی تنخواہیں ہر ماہ کی 7 تاریخ تک ادا کی جائیں، کسی صورت تاخیر نہ ہو۔
وزیر ٹرانسپورٹ نے نئی اشتہاری پالیسی بنانے کی ہدایت دی جس کے تحت نئی بسوں کے تینوں اطراف ڈیجیٹل اشتہارات لگائے جائیں۔ اس پالیسی کے ذریعے آمدنی کو 100 کروڑ روپے تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پرتاپ سرنائک نے ڈیزل پر ویٹ میں رعایت کے لیے ریاستی حکومت کو تجویز بھیجنے اور نیشنل ہائی ویز پر کارپوریشن کی بسوں کے لیے ٹول معافی کے لیے مرکزی حکومت سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔
ایس ٹی کارپوریشن کے ہر ڈپو میں موجود ڈیزل پمپ کے علاوہ نئے کمرشل پمپ قائم کرنے کی تجویز دی گئی تاکہ آمدنی میں اضافہ ہو۔ اس سلسلے میں ایندھن کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ کارپوریشن حکومت سے فنڈز کے حصول کے لیے پیشگی منصوبہ تیار کرے گا تاکہ تمام ترقیاتی منصوبے بلا رکاوٹ مکمل کیے جا سکیں۔