ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی و اسرائیلی حملوں میں ہلاک، 40 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایرانی حکومت نے ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ایران نے تاریخ کی سب سے ’تباہ کن‘ فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

خلاصہ

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں

ایرانی حکومت نے ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ایران نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے ’تباہ کن‘ فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران پر بمباری جاری رکھے گا اور تہران میں ابھی بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سکیورٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں

ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے ہیں، یہ حملے سنیچر کی صبح شروع ہوئے تھے۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے تصدیق کی ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای سنیچر کی صبح اپنے دفتر میں ہلاک ہو گئے۔
ایک ٹی وی میزبان نے کہا ملک میں 40 روزہ سوگ کا آغاز ہو گیا ہے اور جلد از جلد ان کا جانشین مقرر کیا جائے گا۔
ہلالِ احمر کے مطابق ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور بی بی سی کے میڈیا پارٹنر، سی بی ایس نیوز نے رپورٹ کیا کہ تقریباً 40 ایرانی حکام ہلاک ہوئے ہیں۔
جنوبی ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک سکول پر حملے میں 108 ہلاکتیں ہوئیں جن میں زیادہ تعداد طالبات کی ہے۔ اس حملے میں متعدد طالبات زخمی بھی ہوئی ہیں
ردعمل میں ایران نے مشرق وسطیٰ میں، امریکی اتحادیوں اور امریکی فوجی اڈوں پر حملے شروع کر دیے ہیں، جن میں دبئی، دوحہ، بحرین، اور کویت شامل ہیں۔
وزیراعظم سر کیر سٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ خطے میں ’ہم آہنگ دفاعی کارروائیوں‘ میں حصہ لے رہا ہے تاکہ برطانوی شہریوں اور خطے کے شراکت داروں کی حفاظت کی جا سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای ’تاریخ کے سب سے برے لوگوں میں سے ایک‘ تھے اور ان کی موت نے ایرانی عوام کے لیے ’اپنے ملک پر دوبارہ قابو پانے کا سب سے بڑا موقع‘ فراہم کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ ایران پر بمباری جاری رکھے گا اور تہران میں ابھی بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
امریکہ کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ کا اعلان نہیں کر سکتا اور اس آپریشن نے قانون سازوں کو تقسیم کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی کہا ہے کہ یہ فوجی کارروائی خطے میں امن کے لیے خطرہ ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading