ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ بغداد ایئر پورٹ پر حملے کے بعد جاری کردہ اپنے ایک بیان میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ’سخت انتقام ان مجرموں کا منتظر ہے جنھوں نے (سلیمانی) اور دیگر شہیدوں کے خون سے گذشتہ رات اپنے ہاتھ رنگے ہیں۔‘۔ دوسری جانب خامنہ ای نے سلیمانی کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔ سلیمانی کی ہلاکت کو ایران آسانی سے نہیں لے گا اور مبصرین کاخیال ہے کہ ایران ان کی موت پر جس بدلہ لینے کا بات کر رہا ہے اس کے بعد خطے میں کشیدگی کے اضافہ کا امکان ہے ۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنرل سلیمانی اور دیگر ایران نواز ملیشیا کے اہلکار دو گاڑیوں میں بغداد کے ہوائے اڈے سے نکل رہے تھے جب ان کو امریکی ڈرون نے نشانہ بنایا۔ ڈرون نے گاڑیوں پر کئی میزائل برسائے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔اطلاعات کے مطابق جنرل سلیمانی لبنان یا شام سے بغداد پہنچے تھے۔
پینٹاگون کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ’ ’امریکی افواج نے صدارتی حکم پر بیرون ملک امریکی اہلکاروں کے تحفظ کے غرض سے جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ حملہ ایران کے مستقبل کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ضروری تھا۔ امریکہ اپنے شہریوں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم لینے کے لیے تیار ہے۔‘
The White House: At the direction of the President, the U.S. military has taken decisive defensive action to protect U.S. personnel abroad by killing Qasem Soleimani, the head of the Iranian Revolutionary Guard Corps-Quds Force, a US-designated Foreign Terrorist Organization. pic.twitter.com/KPpCpEk2JO
— ANI (@ANI) January 3, 2020
امریکی صدر ٹرمپ نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بعد اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر امریکی جھنڈے کی تصویر لگائی، جس کے ردِ عمل میں کئی ایرانی سوشل میڈیا صارفین اپنے اکاؤنٹس سے بھی ایرانی جھنڈے کی تصویریں شیئر کر رہے ہیں۔
pic.twitter.com/VXeKiVzpTf
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) January 3, 2020
جنرل سلیمانی کی ہلاکت پر ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں امریکی اقدام کو ’عالمی دہشت گردی‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ اور ان کی قدس فورس خطے میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ، النصرہ اور القائدہ سمیت دیگر تنظیموں سے لڑنے والی سب سے مؤثر قوّت تھی۔
Iran summons Swiss envoy, who represents the USA in Iran, over General Soleimani killing: AFP news agency https://t.co/GT7tQFjnZx
— ANI (@ANI) January 3, 2020
جنرل سلیمانی سنہ 1998 سے پاسدارنِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ تھے۔ یہ یونٹ بیرونِ ملک خفیہ آپریشنز کرتا تھا۔ اس سے قبل انھوں نے 1980 کی دہائی میں ایران اور عراق کے درمیان لڑی جانے والی جنگ میں نام کمایا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-