ایران کا اسرائیل پر جدید میزائل اور ڈرون سے حملہ

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران آج ایران نے اسرائیل کے مختلف علاقوں خصوصاً تل ابیب کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق آسمان میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور اسرائیلی فضائی دفاعی نظام فوری طور پر فعال کر دیا گیا۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے بیان میں کہا کہ حملے میں بیلسٹک میزائل، جدید ڈرون اور بعض میزائلوں میں کلسٹر وار ہیڈ استعمال کیے گئے۔ ان میزائلوں کا وارہیڈ فضا میں پھٹ کر متعدد چھوٹے بموں میں تقسیم ہو جاتا ہے جو بڑے علاقے میں پھیل جاتے ہیں۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے حملوں کی کئی لہریں داغی گئیں جن کا زیادہ تر رخ تل ابیب اور مرکزی اسرائیل کی طرف تھا، جہاں لاکھوں افراد رہتے ہیں۔ حملوں کے بعد شہر میں سائرن بجنے لگے اور شہریوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت دی گئی۔

رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں کچھ مقامات پر نقصان ہوا اور متعدد افراد زخمی بھی ہوئے، تاہم بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ بعض میزائلوں کے ٹکڑے اور کلسٹر بم کے ذرات اسرائیل کے مختلف علاقوں میں گرے۔

دوسری طرف اسرائیل اور امریکا نے بھی ایران کے مختلف شہروں میں فوجی تنصیبات اور حکومتی اہداف پر شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں تہران سمیت کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور کئی فوجی مراکز تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یہ جنگ 28 فروری 2026 کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے مختلف شہروں میں فوجی اہداف پر حملے کیے، جس کے بعد ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ جنگ مزید پھیلتی ہے تو پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور عالمی معیشت خصوصاً تیل کی قیمتوں پر بھی بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading