ٹرمپ کا ایران سے ’غیر مشروط سرینڈر‘ کا مطالبہ، ایرانی صدر کا روسی حمایت پر پوتن کا شکریہ

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ’غیر مشروط سرینڈر‘ کے سوال کوئی ڈیل نہیں ہوگی جبکہ ’ایک قابل قبول رہنما کے انتخاب کے بعد ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لائیں گے۔‘ ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روس کی حمایت پر پوتن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں جبکہ اسرائیل نے ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔

روسی صدر کے دفتر کے مطابق ولادیمیر پوتن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے فون پر بات کی ہے۔کریملن کا کہنا ہے کہ گفتگو کے دوران پوتن نے ایران کے رہبر اعلیٰ، دیگر سرکاری اہلکاروں اور ملک کے مختلف حصوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پوتن نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ’جنگ فوراً بند ہونی چاہیے‘ اور ’سفارتی حل تلاش کرنا ہوگا۔‘

صدر پزشکیان نے روس کی حمایت پر اظہارِ تشکر کیا اور ایران کی تازہ ترین پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی فراہم کی۔

کریملن کے مطابق دونوں ممالک نے آپس میں مسلسل رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
روس کی ایران کو امریکی پوزیشنز کے حوالے انٹیلیجنس کی فراہمی، ذرائع کا سی بی ایس کو بیان
ذرائع نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ روس ایران کو امریکہ کے فوجی مقامات سے متعلق انٹیلیجنس معلومات فراہم کر رہا ہے۔

رپورٹ میں اس معاملے سے واقف تین نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں ایک سینیئر امریکی عہدیدار بھی شامل ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسے اس معاملے کی براہِ راست معلومات ہیں۔

اس سے قبل اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھی سب سے پہلے یہ رپورٹ کیا تھا کہ روس امریکہ کی پوزیشنز سے متعلق ایران کو خفیہ معلومات دے رہا ہے۔ اس رپورٹ میں بھی تین نامعلوم حکومتی اہلکاروں کا حوالہ شامل تھا۔

روسی سرکاری میڈیا نے اس سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان نے کہا ہے کہ روس ’ایرانی قیادت کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔‘روئٹرز کے مطابق جب کریملن سے پوچھا گیا کہ کیا ماسکو تہران کی مدد کر رہا ہے تو روسی حکام نے تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading