ایران نے اسرائیلی شہر "حیفہ "کو جہنم بنادیا ٗحملہ میں ملٹری کے سازوسامان کی تیاری کرنیوالی عمارت نشانہ

حیفا:20/ جون (ایجنسیز) ایران نے اسرائیل پرآج جمعہ کو شام تقریباًچھ تاسات بجے اب تک کا سب سے بڑا حملہ بول دیا ہے۔ اس بار ایران نے الٹرا ہیوی میزائلز کا استعمال کیا ہے ۔جن کاسب سے خطرناک میزائلوں میں شمار ہے اور اس سے بہت بڑی تباہی مچائی ہے ۔اپریشن وعدہ صادق 3کی 17 ویں لہر ہے۔ جس کے تحت حیفہ کے انڈسٹریل زونز پر ایران کے الٹراون سے حملہ کیا گیا اس کے وجہ سے ایریا میں کیمیکلز کے لیک ہونے کا اندیشہ جتایا جا رہا ہے کیونکہ یہاں پر بہت زیادہ کیمیکلز تھے ۔اس انڈسٹریل ایریا میں وہ لیک ہو سکتے ہیں کیونکہ حملہ ہی اتنا بڑا ہے یعنی ایک تباہی کے بعد دوسری تباہی قہر برپا سکتی ہے۔ ایران کی ریولوشنری گارڈ آئی آر جی سی نے تصدیق کی کہ اپریشن وعدہ صادق 3کے تحت نئی حملوں کی لہر شروع ہوچکی ہے، اور اس میں لانگ رینج اور الٹرا میزائلز کمپیر ڈرونز اور کامی کاظم ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

نئے حملے کا نشانہ جو علاقے بنے ہیںا س میں اسرائیلی ملٹری ابجیٹیز نشانہ بنے پھر اس کے بعد ملٹری انڈسٹری جہاں پر ملٹری کا ساز و سامان بنایا جاتا ہے چاہے وہ بندوق ہو وردی ہو جو بھی ان سب پر  اس وقت نشانے لگائے گئے ہیں۔ایران کی طرف سے اور ائیڈیاز کے کمانڈ اور کنٹرول سینٹرز بھی ٹارگٹ کیے گئے ہیں ایک بار پھر سے اسرائیل کے ایئر ڈیفرنس سسٹم ناکام ہوتے نظر ائے ہیں یعنی اس بار ایران نے اسرائیل کی ملٹری کی کمر توڑنے کے لیے وہ حملہ بول دیا ہے جس کا ہم اورآپ اندازہ لگا رہے تھے کہ ایسا حملہ ہوگا۔ ایران کے سپریم لیڈر ایت اللہ علی خامنہ نے کیا کہا ہے کہ زائنی دشمن کو اب اس کی اصلی سزا مل رہی ہے یہ بہت بڑی بات ہے اس ایک لائن میں سب کچھ چھپائے۔ اسرائیل کے حائفہ شہر میں خوفناک صورتحال ہے اسرائیلی میڈیا کے حوالے سے دعوی کیا جا رہا ہے کہ ایرانی میزائلز کی سٹرائکس کے بعد زہریلی گیس کے لیک ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ خطرہ زہریلی گیس کے پھیلنےکا ہے ۔

ہائیفا کے انڈسٹریل زورز اور کیمیکل فیسلٹیز کے پاس ڈائریکٹ اسٹائلز ہوئی ہیں ایمرجنسی ٹیمز ابھی بھی سائٹ پر ہیں لیکن ٹاکسک ایکسپوژکااثر  بڑھتا جا رہا ہے۔ چینل 12 جو اسرائیل کا ہے اس کے ایک رپورٹر کے مطابق ایران سے ایک اور میزائل بیلٹ کسی بھی وقت لانچ ہو سکتا ہے ۔ اس وقت صورتحال وحالات انتہائی افراتفری میں ہیں جبکہ ایر ڈنفنس سسٹم پر ہر طرف سے پریشر میں ہے اس سائیڈ میں اس وقت ہر طرف سائرن بج رہے ہیں اور کئی کیزولٹیز کے دعوے کیے جا رہے۔

ہم کئی محاذوں پر طویل مہم جوئی کے لیے تیار ہیں: اسرائیلی فوج کے سربراہ
اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) کے چیف آف سٹاف ایال زمیر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج ’بڑھتے ہوئے خطرات کے سامنے خاموش نہیں رہتی‘۔زمیر کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے دورے کے ساتھ ساتھ ایرانی حملوں سے متاثر ہونے والے اسرائیل کے مقامات کو دیکھنے کے لیے ’کثیر محاذوں پر محوِ جنگ‘ ہے۔انھوں نے مزید کہا ’آئی ڈی ایف تیار ہے۔ دن بہ دن، ہم اپنے قادامات میں آزاد ہو رہے ہیں اور دشمن کی آزادی کم ہوتی جا رہی ہے۔‘اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) کے چیف آف سٹاف نے کہا کہ ’ہم نے اپنی تاریخ کی سب سے پیچیدہ مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ بڑے خطرے کو ختم کیا جا سکے، ایسے دشمن کے خلاف ہمیں ایک طویل مہم کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘
جنوب مغربی ایران میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا: اسرائیلی فضائیہ
اسرائیلی فوج نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر ایک پوسٹ میں تصدیق کی ہے کہ ملک کی فضائیہ نے جنوب مغربی ایران میں فوجی انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے لیے ایک نیا آپریشن کیا ہے۔حملے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنے مشن کو انجام دینے کے لیے فضائی برتری حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھے گی۔اس سے قبل، اسرائیل پر ایران کے تازہ ترین میزائل حملوں میں، کم از کم دو میزائل اسرائیل کے علاقوں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔اسرائیل میں بی بی سی کے فارسی کے نامہ نگار سوران غوربانی کے مطابق ایک راکٹ بیر شیبہ اور ایک حیفہ میں گرا۔اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے حالیہ حملوں کے بعد ملک کے شمالی حصے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ایم ڈی اے کا کہنا ہے کہ تین افراد کی حالت تشویشناک ہے، جن میں ایک 40 سالہ شخص، ایک 16 سالہ لڑکا اور ایک 54 سالہ شخص شامل ہیں۔ایم ڈی اے کا کہنا ہے کہ دیگر 20 افراد دھماکے کے مختلف زخموں اور چھروں کے زخموں کا شکار ہوئے ہیں۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک 51 سالہ خاتون دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگئیں۔ایران نے اسرائیلی ہسپتال کو نشانہ بنانے کے الزامات کو مسترد کردیا۔دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے اسرائیل کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ اس نے ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا تھا۔مشن نے اسرائیلی موقف کو ’جھوٹے الزامات‘ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’ایران کے ’دفاعی اقدامات‘ بین الاقوامی قانون کے عین مطابق اور مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔‘مشن نے اس بات پر زور دیا کہ ’ایرانی اقدامات صرف اسرائیلی جارحیت میں براہ راست ملوث یا حمایت کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں اور یہ کہ وہ عام شہریوں یا شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بناتے ہیں۔‘
دنیا ایک بحران کی جانب بڑھ رہی ہے: انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کے جاری رہنے سے دنیا ایک بحران کی جانب بڑھ رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’اس تنازعے کے پھیلنے سے ایک ایسی آگ بھڑک سکتی ہے جس پر کوئی قابو نہیں پا سکتا۔‘انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ تنازعے کا مرکز ’جوہری سوال‘ ہے۔انھوں نے کہا کہ ’ایران نے بارہا کہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں نہیں بنانا چاہتا لیکن آئیے تسلیم کرتے ہیں کہ اعتماد کا فقدان ہے۔‘انھوں نے فریقین سے کہا کہ ’میں لڑائی کے خاتمے اور سنجیدہ مذاکرات کی طرف واپسی کی اپیل کرتا ہوں۔‘
برطانیہ کا ایران سے اپنے سفارت خانے کے عملے کو واپس بلانے کا اعلان
برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر تہران میں اپنے سفارت خانے سے اپنے عملے کو واپس بلا رہا ہے۔برطانیہ کے دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے ایران سے اپنے برطانوی عملے کو عارضی طور پر واپس بلانے کے لیے احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔ ہمارا سفارت خانہ دور سے کام کر رہا ہے۔‘اس ہفتے کے اوائل میں برطانیہ نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل میں اپنے سفارت خانے اور قونصل خانے کے عملے کے اہل خانہ کو حفاظتی خدشات کے پیش نظر عارضی طور پر واپس بلا رہا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading