نئی دہلی (ایجنسی)چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر آج دہلی میں کوکرچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے احتجاج کیا جارہا ہے۔ اس احتجاج کے پیش نظر دارالحکومت میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور مختلف مقامات پر بھاری تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ پولیس نے اب تک 500 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق کوکرچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے کو پولیس نے طیارے سے ہی اپنی تحویل میں لے لیا، جبکہ سیرَو داس اور آشوتوش رانکا کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاع ہے۔ جنتر منتر پہنچنے والے مظاہرین کو پولیس حراست میں لے رہی ہے، جس کے باعث احتجاجی مقام پر کشیدگی اور افراتفری کا ماحول دیکھا جارہا ہے۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے کا عمل آسان
دہلی میں ایک طرف احتجاج جاری ہے تو دوسری جانب ہندوستانی الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ میں نئے سرے سے نام شامل کرانے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے اہم فیصلہ کیا ہے۔ خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کے تحت فارم 6 کے ساتھ اضافی اعلامیہ جمع کرانے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔
اس فیصلے کے بعد اب ووٹر لسٹ میں اپنا نام نئے سرے سے شامل کرانے کے خواہش مند افراد کو فارم 6 کے ساتھ اضافی حلف نامہ جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس اقدام سے نئے ووٹروں کو اپنا نام درج کرانے میں سہولت حاصل ہوگی اور درخواست کا عمل پہلے کے مقابلے میں آسان ہوجائے گا۔
سپریم کورٹ کے موقف کے بعد الیکشن کمیشن کا فیصلہ
اس سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کے لیے فارم 6 کے ساتھ اضافی اعلامیہ منسلک کرنے کے طریقہ کار کو عدالت کی منظوری حاصل ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ اس نے اس طرح کے کسی اضافی اعلامیے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس وضاحت کے بعد الیکشن کمیشن کے موقف پر سوالات اٹھنے لگے تھے۔
اب الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے تحت فارم 6 کے ساتھ اضافی اعلامیہ جمع کرانے کی شرط ختم کردی ہے۔ روزنامہ جاگرن کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے سے ووٹر لسٹ میں نئے ناموں کے اندراج کا عمل مزید آسان ہوجائے گا۔
دوسری جانب دہلی میں سی جے پی کا احتجاج جاری ہے اور مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر قائم ہیں۔ پولیس کی جانب سے بڑی تعداد میں مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کے بعد دارالحکومت میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔