موسم کی تازہ پیش گوئی، 2027 میں بارشوں پر ایل نینو کا اثر پڑنے کا خدشہ، ماہرین نے کیا خبردار

نئی دہلی (ورق تازہ نیوز): ملک میں 2027 کے مانسون کو لے کر ابھی سے تشویش بڑھنے لگی ہے۔ بحرالکاہل میں ایل نینو کی شدت میں اضافے کے امکانات کے درمیان آئندہ سال بارشوں کے نظام پر اس کے ممکنہ اثرات کے تعلق سے بحث شروع ہوگئی ہے۔ موسمی حالات پر نظر رکھنے والے اداروں کی پیش گوئیوں کے مطابق، اگر ایل نینو کی شدت میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر ہندوستان میں مانسون کی بارشوں پر پڑ سکتا ہے۔ تاہم، 2027 کے مانسون کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔

ایل نینو کیا ہے اور اس سے تشویش کیوں بڑھ رہی ہے؟

ایل نینو بحرالکاہل کے استوائی حصے میں سمندر کی سطح کے درجۂ حرارت میں معمول سے زیادہ اضافے کی موسمی کیفیت کو کہا جاتا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں بارشوں، درجۂ حرارت اور ہواؤں کے نظام پر اثر پڑ سکتا ہے۔

ہندوستان میں ایل نینو کو عموماً کمزور مانسون کے امکانات سے جوڑا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی بعض ایل نینو برسوں کے دوران ملک میں معمول سے کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس موسمی کیفیت کی شدت بڑھنے کی اطلاعات نے کسانوں، زرعی ماہرین اور آبی انتظامیہ کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔

2027 کے آغاز تک ایل نینو شدید رہنے کا امکان

بین الاقوامی موسمی پیش گوئیوں کے مطابق، موجودہ ایل نینو کی کیفیت مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔ امریکی موسمیاتی پیش گوئی مرکز نے 8 اکتوبر 2026 کو جاری اپنی اطلاع میں کہا کہ جنوری سے مارچ 2027 کے دوران شدید سے انتہائی شدید ایل نینو برقرار رہنے کا امکان 83 فیصد سے زیادہ ہے۔

اس پیش گوئی کے بعد آئندہ سال کے موسمی حالات پر نظر رکھنے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ تاہم، ایل نینو کی شدت اور ہندوستان میں اس کے حقیقی اثرات کا انحصار سمندر اور فضا کے باہمی حالات سمیت کئی عوامل پر ہوگا۔

ہندوستانی مانسون پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق، ایل نینو کی مضبوط کیفیت ہندوستان میں جنوب مغربی مانسون کو متاثر کرسکتی ہے۔ اگر آئندہ مہینوں میں یہ کیفیت برقرار رہتی ہے تو 2027 میں بارشوں کی مقدار اور تقسیم پر اس کے اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

البتہ یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ ایل نینو کی موجودگی کا لازمی مطلب ملک بھر میں خشک سالی ہے۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں کی صورتحال سمندری حالات، ہواؤں کے نظام اور دیگر موسمی عوامل کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔

کسانوں اور آبی انتظامیہ کے لیے اہم وقت

اگر آئندہ سال مانسون کمزور رہتا ہے تو اس کا اثر زراعت، فصلوں کی پیداوار، پینے کے پانی کی دستیابی اور آبی ذخائر پر پڑسکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں پانی کے مؤثر استعمال، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور فصلوں کی منصوبہ بندی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہوگی۔

کسانوں کے لیے بھی ضروری ہوگا کہ وہ آئندہ فصلوں کی بوائی اور آب پاشی سے متعلق فیصلے سرکاری موسمی پیش گوئیوں اور زرعی ماہرین کے مشوروں کی بنیاد پر کریں۔

حتمی پیش گوئی کا انتظار

فی الحال 2027 کے پورے مانسون کے بارے میں ہندوستان کے لیے کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہے۔ ہندوستانی محکمۂ موسمیات موسم اور بارشوں سے متعلق پیش گوئیاں مرحلہ وار جاری کرتا ہے۔ آئندہ مہینوں میں ایل نینو کی شدت اور بحرہند کی موسمی کیفیت میں ہونے والی تبدیلیاں زیادہ واضح تصویر پیش کرسکتی ہیں۔

اس لیے فی الحال ایل نینو کو ایک اہم موسمی انتباہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ 2027 میں کم بارش یا خشک سالی کی یقینی پیش گوئی کے طور پر۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading