ناندیڑ میں مسلح ڈکیتی کے ملزم عرفان کبڑا اور اس کی ٹولی کے خلاف موکوکا کے تحت سخت کارروائی

ناندیڑ (ورق تازہ نیوز)ناندیڑ شہر اور اطراف کے علاقوں میں مسلح ڈکیتی سمیت مختلف سنگین جرائم میں ملوث عادی مجرم عرفان عرف کبڑا اور اس کی ٹولی کے خلاف مہاراشٹر حکومت کے منظم جرائم پر قابو پانے کے قانون (موکوکا) کے تحت سخت کارروائی کی گئی ہے۔ ناندیڑ پولیس نے ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے اور منظم جرائم کا خاتمہ کرنے کے مقصد سے یہ اہم قدم اٹھایا ہے۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ دفتر ناندیڑ کی جانب سے 10 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ پریس نوٹ کے مطابق، شیواجی نگر پولیس اسٹیشن میں درج مقدمہ نمبر 385/2026 کی تفصیلی تحقیقات کے دوران اس ٹولی کے منظم مجرمانہ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا۔

تحقیقات میں پولیس کے مطابق یہ ٹولی اپنے اور اپنے ارکان کے مالی فائدے کے لیے منظم انداز میں سنگین اور پُرتشدد جرائم انجام دے رہی تھی، جس سے عام شہریوں میں خوف و ہراس پیدا ہورہا تھا اور عوامی امن و امان کو خطرہ لاحق تھا۔

پولیس کے مطابق ٹولی کا سرغنہ شیخ عرفان عرف کبڑا شیخ گڈو (عمر 26 سال، ساکن مقدوم نگر، نئی آبادی، ناندیڑ) ہے۔ اس کے علاوہ ٹولی کے دیگر ارکان میں فردوس عرف شاہ رخ (عمر 31 سال، ساکن تہرانگر، ناندیڑ)، محمد پرویز عرف چھوٹو (عمر 35 سال، ساکن شراوستی نگر، ناندیڑ)، شیخ عمران (عمر 22 سال، ساکن دتار چوک، نئی آبادی، ناندیڑ) اور شیخ ایان عرف ایان مارک (عمر 23 سال، ساکن لیبر کالونی، ناندیڑ) شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق ان ملزمین کے خلاف ناندیڑ ضلع کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں قتل، اقدام قتل، اسلحہ کے زور پر ڈکیتی، جان لیوا ہتھیاروں سے حملہ، جبری چوری اور ہندوستانی اسلحہ قانون کی خلاف ورزی سمیت متعدد سنگین جرائم درج ہیں۔

پولیس کی جانب سے پہلے بھی ان ملزمین کے خلاف احتیاطی کارروائیاں کی گئی تھیں، تاہم ان کی مجرمانہ سرگرمیوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔ پولیس کے مطابق ملزمین قانون کی پروا کیے بغیر منظم انداز میں جرائم انجام دیتے اور لوگوں میں خوف و دہشت پھیلاتے رہے۔

ٹولی کی مجرمانہ سرگرمیوں اور سابقہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد شیواجی نگر پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر راجیش پوری نے موکوکا قانون کے تحت کارروائی کے لیے مکمل تجویز تیار کی۔ یہ تجویز ناندیڑ شہر کے سب ڈویژنل پولیس افسر کے توسط سے پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نیلابھ روہن کے پاس پیش کی گئی۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نیلابھ روہن نے تجویز کی باریک بینی سے جانچ کرتے ہوئے ضروری سفارشات کے ساتھ اسے مجاز اتھاریٹی کے پاس بھیجا۔ جرائم کی سنگینی، دستیاب شواہد اور ٹولی کے طریقۂ واردات کو مدنظر رکھتے ہوئے ناندیڑ رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس شاہاجی اوماپ نے 7 اگست 2026 کو اس تجویز کو باقاعدہ منظوری دے دی۔

اس مقدمے کی مزید تحقیقات اعلیٰ افسران کی رہنمائی میں ناندیڑ شہر کے سب ڈویژنل پولیس افسر رامیشور وینجنے کررہے ہیں۔

پولیس انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس کارروائی سے شہر میں منظم جرائم، جبری وصولی اور خوف و دہشت پھیلانے والی سرگرمیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ شہریوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے، غیر قانونی ہتھیاروں کا استعمال کرنے اور شہر میں دہشت پھیلانے والے جرائم پیشہ افراد کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ پولیس نے ایسے سماج دشمن عناصر کے خلاف آئندہ بھی سخت اور فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔