نئی دہلی (ورق تازہ نیوز)دارالحکومت نئی دہلی میں 10 اکتوبر کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے دوران طلبہ اور خواتین کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کے معاملے میں پولیس نے 4 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمین کی شناخت کی اور انہیں حراست میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق، یہ واقعہ دہلی کے ڈی ڈی یو مارگ پر پیش آیا، جو کمل مارکیٹ پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں مبینہ طور پر چند افراد کو نوجوان طلبہ کے ساتھ مارپیٹ کرتے اور خواتین کو دھکا دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو میں موقع پر پولیس اہلکار کی موجودگی بھی دکھائی دیتی ہے۔

گرفتار شدگان کی شناخت 50 سالہ رمن سینی، 32 سالہ وویکانند عرف وویک، 27 سالہ کپل کمار اور 35 سالہ رویندر سنگھ عرف گووند ہندو کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق، ان افراد نے خود کو ہندو رکشا دل کا رکن بتایا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق، واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلنے کے بعد حکام نے اس مقام کی نشاندہی کے لیے جانچ شروع کی۔ اس دوران اطلاع ملی کہ مبینہ طور پر واقعے میں ملوث افراد دہلی اور قومی راجدھانی خطے سے باہر جانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چاروں افراد کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں متاثرین یا کسی تنظیم کی جانب سے باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، تاہم وائرل ویڈیو اور دیگر معلومات کی بنیاد پر پولیس نے خود کارروائی کرتے ہوئے ملزمین کو گرفتار کیا۔ معاملے میں مزید قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ سی جے پی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے۔ احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کے عمل پر اٹھنے والے سوالات کی جانچ کی جائے۔ اسی احتجاج کے دوران مبینہ مارپیٹ کا واقعہ سامنے آنے کے بعد معاملے نے توجہ حاصل کی ہے۔