ایران کے قدس فورس کے چیف میجر جنرل قاسم سلیمانی کو مارنے کے بعد امریکہ نے ایک اور حملہ کر کے کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی فوج نے ہفتہ کی صبح عراق کے حشد الشابی پارلیمنٹری فورس کے کمانڈر کو نشانہ بناتے ہوئے حملہ کیا۔ عراق کے سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق یہ حملہ راجدھانی بغداد کے شمالی حصے میں ہوا۔
Asaib Ahl al-Haq media outlet releases photos shows the aftermath airstrikes on Hashd al-Shaabi vehicles near Taji.#Iraq pic.twitter.com/MO1yqnttjF
— Baxtiyar Goran (@BaxtiyarGoran) January 3, 2020
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو پولس ذرائع نے بتایا کہ یہ حملہ ایک قافلے پر کیا گیا جس میں 5 لوگوں کی موت ہو گئی۔ مارے گئے لوگ ایران حامی ملیشیا حشد الشابی کے بتائے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب قاسم سلیمانی کی لاش کے ساتھ ایک جلوس نکلنے والا تھا۔ سلیمانی کو ایران کے نجف شہر میں آج دفن کیا جانے والا ہے۔ قابل غور ہے کہ ایران نے پہلے ہی ان کی موت کے بعد تین دنوں کے قومی غم کا اعلان کیا ہے۔
اس درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی ملٹری کمانڈر قاسم سلیمانی کو بہت پہلے ہی مار دیا جانا تھا۔ اس ایشو پر اپنا پہلا رد عمل دیتے ہوئے انھوں نے ٹوئٹ کیا کہ سلیمانی کو ’’بہت سال پہلے ہی مار دیا جانا چاہیے تھا۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ قاسم سلیمانی کی موت کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی نے اس کارروائی کی تعریف کی ہے جب کہ اپوزیشن پارٹیوں نے اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے علاقائی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ امریکہ کے سابق نائب صدر جو بائیڈن نے سلیمانی کی موت کے بعد اپنا رد عمل ظاہر کرےت ہوئے کہا کہ ’’صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا ہے۔‘‘
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
