کشمیری عوام کی بہتری ہندوستان کے ساتھ رہنے میں
جموں و کشمیر کے تعلق سے جمعیۃ علماء ہند کا ایک اہم بیان میڈیا میں آیا ہے۔ جمعیۃ کا کہنا ہے کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور سبھی کشمیری ہمارے ہم وطن ہیں۔ کوئی بھی علیحدگی پسند تحریک نہ صرف ہندوستان کے لیے بلکہ کشمیر کے لوگوں کے لیے بھی نقصاندہ ہے۔ دہلی میں ہوئی ایک میٹنگ میں جمعیۃ علماء ہند نے ایک خاص قرارداد بھی پاس کیا جس میں کشمیر کے تعلق سے جمعیۃ علماء ہند کا نظریہ رکھا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’’ہمیں لگتا ہے کہ کشمیری لوگوں کے جمہوری اختیارات اور حقوق انسانی کی حفاظت کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ پھر بھی یہ ہمارا مکمل یقین ہے کہ ان کی بہتری ہندوستان کے ساتھ رہنے میں ہی ہے۔ دشمن طاقتیں اور پڑوسی ملک کشمیر کو تباہ کرنے پر آمادہ ہیں۔‘‘
Mahmood Madani, Jamiat Ulema-e-Hind: Pakistan is trying to project on the international forum that India muslims are against India, we condemn this act of Pakistan. https://t.co/YQ8BYcgkGY
— ANI (@ANI) September 12, 2019
جموں و کشمیر: کٹھوعہ میں تین مشتبہ دہشت گرد گرفتار، اے کے 47 بھی برآمد
جموں و کشمیر کے کٹھوعہ میں جمعرات کو پولس نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی۔ پولس نے اسلحہ اور گولہ بارود لے جا رہے ایک ٹرک کو برآمد کیا۔ ایک سینئر پولس افسر نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے کٹھوعہ میں چھ اسلحوں کے ساتھ تین مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
SSP Kathua: A truck carrying arms and ammunition has been recovered in Kathua, more details are awaited. #JammuAndKashmir pic.twitter.com/zGghQu4xI8
— ANI (@ANI) September 12, 2019
اتر پردیش: اناؤ واقع ایچ پی سی ایل پلانٹ میں دھماکہ، مچی بھگدڑ
اتر پردیش کے اناؤ واقع ہندوستا پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ کے پلانٹ میں دھماکہ کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پلانٹ میں گیس کے ایک ٹینک میں دھماکہ ہوا ہے جس کے بعد وہاں لوگوں میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ سبھی اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔ دھماکہ کی خبر ملنے کے بعد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں وہاں پہنچ گئی ہیں۔ اس دھماکہ میں ہوئے نقصانات سے متعلق تفصیلات کی کبر فی الحال موصول نہیں ہوئی ہیں۔
A gas tank has exploded at Hindustan Petroleum Corporation Plant in Unnao. Fire tenders have been rushed to the spot. More details awaited. pic.twitter.com/4s7t6R2m3B
— ANI UP (@ANINewsUP) September 12, 2019
عوامی ایشوز سے گھبرا گئی ہے بی جے پی، اس لیے بنا رہی صحافیوں کو نشانہ: پرینکا گاندھی
ان دنوں یو پی کی بی جے پی حکومت صحافیوں پر لگاتار حملہ کر رہی ہے۔ حکومت کے خلاف خبریں دکھائے جانے سے ناراض یوگی حکومت نے کئی صحافیوں پر کیس تک درج کرا دیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے یوگی حکومت کی اس کارروائی کی سخت تنقید کی ہے۔ پرینکا نے ٹوئٹ کیا ہے کہ ’’صحافی صرف آنکھ پر پٹّی باندھ کر واہ واہی کے لیے نہیں ہوتے۔ ان کا کام ہوتا ہے عوام کے ایشوز پر خبریں بنانا اور حکومت سے جواب مانگنا۔ لیکن اتر پردیش کی بی جے پی حکومت ایسے صحافیوں پر لگاتار حملہ بول رہی ہے۔‘‘ پرینکا گاندھی نے پوچھا کہ ’’کیا بی جے پی کو عام لوگوں کے ایشوز کا خوف پریشان کر رہا ہے۔‘‘
पत्रकार केवल आँख पर पट्टी बाँध कर वाहवाही के लिए नहीं होते। उनका काम होता है जनता के मुद्दों पर खबरें बनाना और सरकार से जवाब लेना।
लेकिन उप्र भाजपा सरकार ऐसे पत्रकारों पर लगातार हमला बोल रही है। क्या भाजपा को आम जनता के मुद्दों का डर सता रहा है?https://t.co/hXGSAvD4My
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) September 12, 2019
ہندوستان اور چین کے فوجی آپس میں متصادم، ہوئی دھکّا-مکّی
پاکستان کے ساتھ ساتھ چین بھی ہندوستان کے ساتھ سازش کرتا رہا ہے۔ خبر ہے کہ بدھ کو سرحد پر چینی فوجی ہندوستانی فوجیوں سے نبرد آزما ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان کافی دیر تک دھکّا-مکّی ہوتی رہی۔ یہ واقعہ 134 کلو میٹر طویل پینگونگ جھیل کے شمالی کنارے پر ہوئی، جس کے ایک تہائی حصے پر چین کا کنٹرول ہے۔
ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’ہندوستانی فوجی پٹرولنگ پر تھے اور اسی دوران ان کا سامنا چین کے پیپلز لبریشن آرمی کے فوجیوں کے ساتھ ہو گیا۔ چینی فوجیوں نے علاقے میں ہندوستانی فوجیوں کی موجودگی کے خلاف آواز اٹھائی اور اس کے بعد دونوں جانب کے فوجیوں میں دھکّا-مکّی ہونے لگی۔ دونوں فریق نے علاقے میں اپنی فوجیوں کی تعداد بڑھا دی، دیر شام تک یہ جدوجہد جاری تھا۔
Indian Army: There was a face off between soldiers of Indian Army and Chinese Army near the northern bank of the Pangong lake. The face off was over after the delegation level talks between two sides there. De-escalated & disengaged fully after delegation level talks yesterday. pic.twitter.com/dZY9Mp04l2
— ANI (@ANI) September 12, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
