بی جے پی والوں کے دل میں اب بھی بسے ہیں عصمت دری کے ملزم: پرینکا گاندھی
ایک اشتہار میں عصمت دری کے ملزم کلدیپ سنگھ سینگر کی تصویر پی ایم مودی اور کئی سرکردہ بی جے پی لیڈروں کے ساتھ شائع ہوئی۔ اس اشتہار کے منظر عام پر آنے کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’سی بی آئی نے رپورٹ دے دی۔ سپریم کورٹ نے پھٹکار لگا دی۔ لیکن بی جے پی والوں کے دل میں اب بھی عصمت دری کے ملزم کلدیپ سنگھ سینگر بستے ہیں۔ بی جے پی کے بڑے لیڈروں کی تصویر بھی ان کے ساتھ ہے۔ کیا ان کا کوئی تبصرہ آئے گا؟‘‘
واضح رہے کہ اناؤ عصمت دری معاملہ کے ملزم اور بی جے پی سے نکالے گئے رکن اسمبلی تہاڑ جیل میں بند ہیں اور تیس ہزاری کورٹ نے ان کے اوپر عصمت دری اور قتل کا الزام طے کر دیا ہے۔
CBI ने रिपोर्ट दे दी। सुप्रीम कोर्ट ने फटकार लगा दी, लेकिन भाजपा वालों के दिल में अभी भी बलात्कार के आरोपी कुलदीप सिंह सेंगर का वास है।
भाजपा के बड़े नेताओं का फोटो भी उनके साथ है, क्या उनसे कोई टिप्पणी आएगी?#EnoughIsEnough https://t.co/puTVaArIHb
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) August 17, 2019
چھتیس گڑھ: پدم شری دامودر گنیش باپٹ کا انتقال
مشہور و معروف سماجی کارکن پدم شری دامودر گنیش باپٹ کا انتقال ہو گیا ہے۔ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے 2018 میں راشٹرپتی بھون میں منعقد تقریب میں چھتیس گڑھ کے سینئر سماجی خدمت گار دامودر گنیش باپٹ کو پدم شری سے نوازا تھا۔
Chhattisgarh: Padma Shri awardee Damodar Ganesh Bapat passed away at a hospital in Bilaspur, last night. (file pic) pic.twitter.com/O3oMgNXvOR
— ANI (@ANI) August 17, 2019
کشمیر میں فون خدمات بحال، جموں میں انٹرنیٹ بھی شروع
جموں و کشمیر میں 17 اگست سے فون خدمات کو بحال کر دیا گیا ہے۔ جموں میں 2 جی اسپیڈ کے ساتھ انٹرنیٹ خدمات کو بھی شروع کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اب جموں و کشمیر میں حالات معمول پر آ رہے ہیں اس لیے دھیرے دھیرے ان سبھی پابندیوں کو ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ریاست سے دفعہ 370 ہٹانے کے بعد احتیاطاً حکومت نے فون اور انٹرنیٹ خدمات پر پابندی لگا دی تھی۔
2G mobile internet services restored in JAMMU, REASI, SAMBA, KATHUA, & UDHAMPUR. #JammuAndKashmir pic.twitter.com/FqJUAZL3rf
— ANI (@ANI) August 17, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
