اہم خبر: مودی حکومت کی مسلم مخالف پالیسیوں سے ’ہیومن رائٹس واچ‘ فکر مند… کینتھ روتھ


مودی حکومت کی مسلم مخالف پالیسیوں سے ’ہیومن رائٹس واچ‘ فکر مند: کینتھ روتھ

نیویارک: بین الاقوامی ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائرکٹر کینتھ روتھ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی حکومت کی مسلم مخالف پالیسیوں کی وجہ سے تنظیم کافی فکر مند ہے۔ روتھ نے منگل کو کہا کہ ’’ہم کشمیر میں ان کے کاموں، آسام میں ان کے کاموں اور اب حال ہی میں امتیازی شہریت قانون کی طرف سے مودی حکومت کی مسلم مخالف پالیسی کے بارے میں انتہائی فکر مند ہیں‘‘۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ پارلیمنٹ نے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آئے ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور عیسائی مذاہب کے لوگوں کو شہریت پیش کرنے والا بل شہری ترمیمی قانون (سی اےاے) منظور کیا تھا۔ اس کے مطابق مسلمانوں کو اس کے تحت شہریت نہیں دی جائے گی۔ اس سے قبل گزشتہ سال 5 اگست کو مرکزی حکومت نے جموں کشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔

(یو این آئی)

جے این یو تشدد: پوچھ تاچھ کے لیے دہلی پولس نے چنچن کمار اور دولن سامنتا کو کیا طلب

جے این یو کیمپس میں نقاب پوش غنڈوں کے ذریعہ طلبا پر حملہ کی جانچ دہلی پولس زور و شور سے کر رہی ہے۔ اس درمیان پولس نے میڈیا کو بتایا کہ ’’جے این یو تشدد کے بارے میں پوچھ تاچھ کے لیے آج چنچن کمار اور ڈولن سامنتا (جنھیں مشتبہ افراد کی شکل میں نامزد کیا گیا تھا) کو بلایا گیا ہے۔ فورنسک ٹیم بھی آج جے این یو پہنچ رہی ہے۔ وہیں اکشت اوستھی، روہت شاہ اور کومل شرما کا پتہ لگانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔‘‘


جموں و کشمیر میں 7 دنوں کے لیے 2 جی انٹرنیٹ خدمات بحال

جموں و کشمیر انتظامیہ نے جموں حلقہ کے کچھ حصوں میں تقریباً 5 مہینے بعد 2 جی موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کر دی ہے۔ حالانکہ یہ سروس صرف پوسٹ پیڈ موبائل پر ہی دستیاب رہے گی۔


عراق واقع امریکی فوجی بیس پر ایران نے پھر کیا راکٹ سے حملہ

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ منگل کی شب عراق واقع ایک امریکی فوجی بیس پر پھر ایران نے راکٹ سے حملہ کیا۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جس وقت یہ حملہ ہوا اس بیس پر امریکی فوجی موجود تھے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عراقی پولس نے اس حملے کی تصدیق کر دی ہے۔ فی الحال کسی ہلاکت کی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔


یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading