اجیت پوار کو ملی بڑی راحت، سینچائی گھوٹالہ میں کلین چٹ
70 ہزار کروڑ روپے کی سینچائی گھوٹالہ معاملہ میں اجیت پوار کو کلین چٹ مل گئی ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے تقریباً 48 گھنٹے بعد ہی انھیں انسداد بدعنوانی بیورو یعنی اے سی بی نے بڑی راحت دیتے ہوئے کیس بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
لوگ ہم پر ہنس رہے ہیں کہ ہم پرالی جلانے پر کنٹرول نہیں کر سکتے: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ میں آلودگی کے معاملے میں سماعت کرتے ہوئے جسٹس ارون مشرا نے کہا کہ ’’ملک پر لوگ ہنس رہے ہیں کہ ہم پرالی جلانے پر کنٹرول نہیں کر سکتے۔ الزام اور جوابی الزام کے ذریعہ لوگوں کی خدمت نہیں کی جا سکتی ہے۔ آپ لوگ الزام لگانے کا کھیل بند کیجیے۔ آلودگی کو آپ سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔‘‘
Pollution matter in Supreme Court: Justice Arun Mishra says- People are laughing at our country that we can’t even control stubble burning. Blame game is not serving the people of Delhi. You people will play the blame game, not taking it (pollution) seriously. https://t.co/ys4Eq1BtJf
— ANI (@ANI) November 25, 2019
مزید ایک این سی پی لیڈر دہلی سے ممبئی واپس
این سی پی رکن اسمبلی انل پاٹل جو مبینہ طور سے لاپتہ تھے، انھیں این سی پی کے لیڈر دہلی سے ممبئی لے کر پہنچ گئے ہیں۔ این سی پی لیڈروں نے بتایا کہ ’’جب ہم ہوٹل (دہلی میں) پہنچے، تو کم از کم 200-100 بی جے پی کارکنان وہاں موجود تھے، اس کے ساتھ ہی وہاں پولس بھی سول ڈریس میں موجود تھی، ہم انھیں دیکھ کر ڈر گئے تھے۔‘‘
Anil Patil, NCP MLA who was reportedly missing & brought to Mumbai from Delhi by NCP leaders today: We told Sharad Pawar sa’ab that we want to return & stay with the party, he assured us that we will be brought back and made the necessary arrangements. (2/2) #Maharashtra https://t.co/JZfdhzSKoG
— ANI (@ANI) November 25, 2019
بی جے پی نے جمہوریت کو کیا اغوا، فلور ٹیسٹ میں ملے گا کرارا جواب… کانگریس
سپریم کورٹ کی طرف سے مہاراشٹر پر فیصلہ محفوظ رکھنے کے بعد کانگریس کے ترجمان رنديپ سنگھ سرجے والا اور کانگریس کے سینئر لیڈر پرتھوی راج چوہان نے میڈیا سے بات کی۔ سرجے والا نے کہا، ’’مہاراشٹر میں ایک ناجائز حکومت بنائی گئی ہے، ہم نے کورٹ سے درخواست کی ہے کہ اکثریت ثابت کرنے کے لئے جلد سے جلد فلور ٹیسٹ کرایا جائے۔ سپریم کورٹ کو ہم نے 154 اراکین اسمبلی کی حمایت کا خط مع دستخط کے دکھائے ہیں۔ کورٹ نے دونوں فریقوں کو سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے، کل 10.30 بجے فیصلہ آئے گا۔ ہمیں ایسا یقین ہے کہ مہاراشٹر میں جمہوریت کی جیت ہوگی۔ انہوں نے جمہوریت کو اغوا کیا ہے، انہیں فلور ٹیسٹ میں کرارا جواب ملے گا‘‘ـ
ممبئی: راج بھون میں کانگریس، این سی پی اور شیوسینا نے افسران کو دیا حمایت کا خط
ممبئی میں راج بھون میں حکام سے مل کر کانگریس، این سی پی اور شیوسینا نے حمایت کا خط سونپ دیا ہے، میڈیا سے بات کرتے ہوئے مہاراشٹر کانگریس کے صدر بالا صاحب تھوراٹ نے کہا کہ ان کے اتحاد کو 162 ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ این سی پی اراکین کے رہنما جینت پاٹل نے کہا کہ بی جے پی کے پاس حمایت نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں موجودہ حکومت کا قیام جھوٹے کاغذات اور دستاویزات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ میں مہاراشٹر بحران پر بحث پوری، کل 10.30 بجے سنائے گا فیصلہ
مہاراشٹر پر اب سپریم کورٹ کل 10.30 بجے فیصلہ سنائے گا. اپوزیشن کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کورٹ جلد سے جلد فلور ٹیسٹ کرائے.
سپریم کورٹ نے پوچھا، کیا وزیر اعلی کو ایوان میں اکثریت حاصل ہے؟
مہاراشٹر حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں اپنی بات رکھ رہے مکل روہتگی سے صاف صاف الفاظ میں سپریم کورٹ نے پوچھا ہے کہ کیا موجودہ وزیر اعلی کو اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے، مکل روہتگی نے کورٹ سے کہا کہ مہاراشٹر میں جو بھی ہوا ہے وہ آئین کے دائرہ میں ہوا ہے۔
NCP-INC-Shiv Sena petition: Solicitor General to Supreme Court – Present position is, Guv has invited the majority alliance in the House to form govt. Devendra Fadnavis staked claim following the letter of Ajit Pawar along with letters of support of 11 independent & other MLAs. pic.twitter.com/CljHMy9Dzk
— ANI (@ANI) November 25, 2019
مہاراشٹر معاملہ پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع
بی جے پی کو مہاراشٹر گورنر کی جانب سے حکومت بنانے کی اجازت دینے کو لے کر سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہو گئی ہے، سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے حکومت بنانے سے منسلک دستاویزات کورٹ کو سونپ دیئے ہیں۔
بی جے پی مہاراشٹر میں آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے… پرینکا
نئی دہلی: کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مہاراشٹر میں کرناٹک کے کھیل کو دہرا رہی ہے اور آئینی اداروں کو اغوا کرکے آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ پرینکا واڈرا نے پیر کو ٹوئٹ کیا، ’’ٹی وی دکھا رہا ہے کہ بی جے پی مہاراشٹر میں اداروں اور آئین کو پامال کرتے ہوئے کرناٹک کے کھیل کو دوبارہ دہرانے کی کوشش کر رہی ہے‘‘
انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں ہزاروں کسان خودکشی کر رہے ہیں لیکن بی جے پی کو ان کی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مہاراشٹر میں 12000 کسانوں نے خودکشی کرلی۔ بی جے پی حکومت کی جیب سے ان کے لئے مدد نہیں نکلی’’۔ پارٹی کی جنرل سکریٹری نے بی جے پی کے وہاں حکومت بنانے کے اقدام کو مینڈیٹ کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا ،’’کیا ہم مینڈیٹ کو کھلے عام اغوا کرنے کے دورمیں پہنچ گئے ہیں‘‘۔
टीवी दिखा रहा है कि भाजपा महाराष्ट्र में संस्थाओं, संविधान को ठेंगा दिखाते हुए कर्नाटक का खेल फिर से दोहराना चाह रही है।
महाराष्ट्र में 12000 किसानों ने आत्महत्या कर ली। उनके लिए भाजपा सरकार की जेब से तो मदद नहीं निकली।क्या हम जनादेश के खुले अपहरण के दौर में पहुँच चुके हैं?
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) November 25, 2019
مہاراشٹر معاملہ پر سپریم کورٹ میں آج پھر ہوگی سماعت
مہاراشٹر میں گورنر کوشیاری کی طرف سے بی جے پی کو حکومت بنانے کی اجازت دینے کے معاملے میں آج پھر سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی، کانگریس، این سی پی اور شیوسینا نے گورنر کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔ اس سے پہلے اتوار کو سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے حکومت بنانے سے منسلک تمام دستاویزات طلب کیے تھے۔
شردپوار نے اجیت پوار کے دعووں کو جھٹلایا، دوبارہ پارٹی میں لانے کی کوشش
ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر شردپوار نے اپنے بھتیجے کے دعووں کو جھٹلا دیا ہے کہ ان کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد قائم کرکے حکومت تشکیل دے گی۔ انہوں نےکہا کہ بی جے پی کے ساتھ حکومت کی تشکیل کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے، این سی پی نے شیوسینا اور کانگریس کے ساتھ حکومت سازی کا فیصلہ لیا ہے۔ اجیت پوار کا بیان غلط اور بے بنیاد ہے اور ان کی کوشش ہے کہ بدگمانی کیساتھ عوام کے درمیان کنفیوژن پیدا کیاجائے۔ ان کا ٹوئٹ اس وقت سامنے آیا جب اجیت پوار نے اپنی۔چپی توڑتے ہوئے مسلسل ٹوئٹ کر نا شروع کیا جس میں وزیراعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا گیا ہے اور اس بات زور دے رہے ہیں کہ وہ اب بھی این سی پی سے وابستہ ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-