اہم خبریں: شہریت قانون کے خلاف مارچ کر رہے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا اور پولس کے درمیان تصادم

جامعہ ملیہ اسلامیہ: شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے طلبا اور پولس کے درمیان تصادم

نو منظور شدہ شہریت قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا اور پولس کے درمیان تصادم کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ شہریت قانون پر جامعہ کے طلبا یونیورسٹی اھاطہ سے پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کرنے والے تھے لیکن پولس نے انھیں یونیورسٹی کے باہر ہی روک لیا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ: شہریت قانون میں ترمیم کے خلاف کیا طلبا و طالبات کا پرزور مظاہرہ

دہلی واقع مشہور و معروف یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا نے آج نومنظور شدہ شہریت ترمیمی بل کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ جامعہ میں نماز جمعہ کے بعد نہ صرف یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے لڑکے، بلکہ لڑکیاں بھی زوردار طریقے سے مودی حکومت کے خلاف نعرہ بلند کرتی ہوئی نظر آئیں۔ جامعہ کے طلبا نے جمعرات کی شام بھی اس سلسلے میں احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شہریت قانون میں مذہب کی بنیاد پر کوئی ترمیم نہ کرے۔


نومنظور شدہ شہریت قانون کے خلاف کانگریس لیڈر سپریم کورٹ پہنچے

شہریت ترمیمی بل 2019 پر صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے دستخط کر دیا ہے جس کے بعد اس بل نے قانون کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس قانون کے خلاف اب کانگریس لیڈر جے رام رمیش سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی ہے جس میں کہا ہے کہ یہ ترمیم شدہ قانون برابری کے حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہے۔


مجرم اکشے کی نظرثانی عرضی کے خلاف نربھیا کی ماں سپریم کورٹ پہنچی

نئی دہلی: دہلی میں 2012 کے اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ نربھیا کی ماں آشا دیوی نے کیس کے ایک مجرم اکشے کمار سنگھ کی نظر ثانی کی درخواست کے خلاف سپریم کورٹ میں مداخلت کی عرضی دی ہے۔ متاثرہ کی ماں کی طرف سے پیش ہوئے وکیل نے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی صدارت والی ایک بنچ کے سامنے اس معاملے کا خصوصی ذکر کیا اور اس کیس کے ایک مجرم اکشے کی نظر ثانی درخواست کی مخالفت کی۔

عدالت عظمی نے ان کی درخواست منظور کر لی اور معاملے کی سماعت کے لئے 17 دسمبر کی تاریخ مقرر کی۔ عدالت نے گزشتہ برس نو جولائی کو تین دیگر قصورواروں پون، ونے اور مکیش کی نظر ثانی کی عرضیاں یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی تھیں کہ سال 2017 کی سزا پر نظر ثانی کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

معیشت کی بدحالی کو لے کر پرینکا کا وزیر اعظم پر حملہ

کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے جمعہ کے روز حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو اس کی معاشی پالیسیوں کے بارے میں سوال کیا۔ پرینکا نے ٹویٹ کیا، ’’افراط زر گزشتہ تین سالوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ عام لوگوں کو روز مرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والے سامان خریدنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ، ’’بی جے پی کے طریق کار کے سبب آنے والی سست روی کی وجہ سے آمدنی صفر ہو گئی ہے لیکن ملک کے وزیر اعظم اس پر خاموش ہیں۔‘‘


نربھیا کیس، حکم نامہ سزائے موت پر دستخط کا معاملہ 18 دسمبر تک ملتوی

دہلی میں عصمت دری کے بعد بے دردی سے قتل کی گئی نربھیا معاملہ میں قصورواروں کی سزائے موت فی الحال ٹال دی گئی ہے۔ آج دہلی کی پٹیالہ ہاؤس عدالت میں قصورواروں کی سزائے موت کے حکم نامہ (ڈیتھ وارنٹ) پر دستخط کئے جانے تھے لیکن جج نے معاملہ کی سپریم کورٹ میں سماعت کے پیش نظر اس کے لئے 18 دسمبر کی تئی تاریخ مقرر کر دی۔

حکم نامہ سزائے موت پر دستخط کرنے والے جج نے کہا، ’’مجھے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اکشے کی ریویو پٹیشن سپریم کورٹ میں قبول کر لی گئی ہے لہذا معاملہ کو ملتوی کیا جاتا ہے۔ اس اس معاملہ کی سماعت 18 دسمبر کو ہوگی۔‘‘


ادھر، متاثرہ کی والدہ آشا دیوی نے اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم 7 سال سے لڑائی لڑ رہے ہیں تو ہم ایک اور ہفتہ انتظار کر سکتے ہیں۔

قبل ازیں، پٹیالہ ہاؤس عدالت میں سماعت کے دوران نربھیا کے وکیل نے کہا کہ پھانسی کی تاریخ طے کی جانی چاہئے اور رحم کی درخواست کا ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پہلے آنے دیں، تب ہی اس پر سماعت کی جائے گی۔

دریں اثنا، جج نے مجرموں کے وکیل اے پی سنگھ کی سرزنش کی۔ عدالت نے کہا کہ آپ اس کیس کے دوران عدالت میں موجود نہیں رہے، آپ کی وجہ سے اس معاملے میں فیصلہ آنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading