شاہین باغ میں مظاہرین کو روڈ سے ہٹانے والی درخواست پر سپریم کورٹ نے دیا حکومت کو نوٹس
دہلی کے شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے لوگوں کو روڈ سے ہٹانے کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔
معاملے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے تجویز دی کہ احتجاج عوامی سڑک پر غیر معینہ مدت کے لئے نہیں کیا جا سکتا ہے، اس طرح کے احتجاجی مظاہروں کے لئے ایک مخصوص جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے۔
Shaheen Bagh protest matter: Supreme Court issues notice to Delhi Government & Delhi Police and posts the matter for 17th February. https://t.co/WpMB1EGXf6
— ANI (@ANI) February 10, 2020
خواتین کمیشن کا گارگی کالج کے دورے کا فیصلہ
نئی دہلی: قومی خواتین کمیشن نے دہلی یونیورسٹی کی گارگی کالج کی طالبات کے ساتھ جنسی استحصال کے مسئلے پر از خود نوٹس لیا ہے اور کمیشن جلد ہی جائے وقوع کا دورہ کرے گا۔ کمیشن کے ذرائع نے پیر کو یہاں بتایا کہ کمیشن نے اخبارات میں شائع اس واقعہ کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ کمیشن کی ایک ٹیم جلد ہی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے کالج جائے گی۔
خبروں کے مطابق کالج کے سالانہ پروگرام کے دوران کالج کیمپس میں باہر سے لوگ گھس آئے اور طالبات کے ساتھ برا برتاؤ کیا۔ اس سلسلے میں کچھ طالبات نے جنسی استحصال کا الزام لگایا ہے۔ طالبات کا کہنا ہے کہ کالج انتظامیہ نے ان کی کوئی مدد نہیں کی ہے۔ طالبات کے ایک گروپ نے اس سلسلے میں ایف آئی آر بھی درج کرائی ہے۔
دگوجے نے پلوامہ کے شہیدوں کا معاملہ اٹھایا
بھوپال: سینئر کانگریس رہنما اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلی دگوجے سنگھ نے پلوامہ حملے کے شہیدوں کا معاملہ اٹھاتے ہوئے آج کہا کہ شہیدوں کے گھروالوں کو ایک سال گزرنے کے باوجود مدد نہیں ملی ہے۔ راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ دگوجے سنگھ نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ پلوامہ حملے کو ایک سال پورا ہوگیا ہے۔ شہیدوں کی بیویاں مدد کے لئے گہار لگا رہی ہیں۔ اب تو حکومت کو سننا چاہیے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’مودی-شاہ‘کو یاد کیوں آئےگی، 2024 میں دیکھ لیں گے۔
دگوجے سنگھ نے مودی بھکتوں پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ہندوتوا صرف ہندوؤں کو دیگر مذاہب کے خلاف نفرت پھیلا کر ووٹ حاصل کرنے کا ہے۔ یہ پلوامہ کے شہیدوں کے گھر والوں کے بارے میں بھی نہیں سوچ رہے ہیں، جنہیں ایک سال بعد بھی مدد نہیں ملی ہے۔
تین منزلہ عمارت کی مُنڈیرکی دیوار گرنے سے ایک شخص ہلاک
حیدرآباد: تین منزلہ عمارت کی مُنڈیرکی دیوار کے ٹی اسٹال پر گرپڑنے کے نتیجہ میں ایک شخص ہلاک اور دیگر دو زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ تلنگانہ کے ضلع ورنگل کے پوچماں میدان علاقہ میں پیش آیا۔ مہلوک کی شناخت محمد جلال الدین کے طور پر کی گئی ہے۔ وہ اور دوسرے بعض افراد چائے پی رہے تھے کہ اچانک ان پر مُنڈیر کی دیوار گر گئی۔ پولیس نے کہا کہ زخمیوں کو علاج کے لئے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ جلال الدین کے فرزند کی شکایت پر ایک معاملہ درج کرکے جانچ شروع کردی گئی۔ شبہ کیا جارہا ہے کہ یہ دیوار ہفتہ کی شب ہوئی اچانک بارش کے نتیجہ میں کافی بوسیدہ ہوگئی تھی۔
بہار: پٹنہ میں بم دھماکہ، 5 افراد زخمی، دو گھروں کو پہنچا نقصان
بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ایک گھر میں بم دھماکہ ہوا ہے، اس دھماکے میں 5 لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے، زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ دھماکے سے دو گھروں کو نقصان پہنچا ہے، پولیس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
Bihar: Five people injured in an explosion at a house in Patna. Police say, "It seems a bomb that had been kept at this house exploded, damaging two houses. Injured people have been shifted to a hospital". pic.twitter.com/b2EG4zDgIt
— ANI (@ANI) February 10, 2020
سہارنپور: خوفناک سڑک حادثہ میں ایک ہی کنبہ کے چار افراد کی موت
سہارنپور: اترپردیش میں ضلع سہارنپور کے نانگل علاقہ میں ہونے والے خوفناک سڑک حادثے میں کار سوار ایک ہی کنبہ کے چار ارکان کی موت ہو گئی، جبکہ ایک کی حالت نازک ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ (دیہات) ودیا ساگر مشرا نے پیر کو یہاں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی کے پنجابی باغ علاقہ کے رانی باغ کے رہائشی بھگوتی شرما اپنی اہلیہ، دو بیٹوں اور بہو کے ساتھ سہارن پور شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ اتوار کی رات تقریباً 12 بجے شادی کی تقریب کے بعد گھر کے کے پانچوں رکن کار سے دہلی واپس لوٹ رہے تھے۔ نانگل علاقے میں سبری بھٹے کے پاس تیز رفتار کار ایک ٹرالی سے جا ٹکرا گئی۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے میں بھگوتی شرما (55) ان کی اہلیہ ممتا شرما (50) بیٹا گورو شرما (28) اس کی اہلیہ ندھی شرما (24) کی موت ہو گئی۔ حادثہ میں زخمی گورو کے بھائی پرتیک شرما کو اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے اور اس کی حالت بھی سنگین بتائی جا رہی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو