اہم خبریں: جیل میں قید ڈاکٹر کفیل کی جان کو خطرہ، اہلیہ نے ہائی کورٹ کو خط لکھا


جیل میں قید ڈاکٹر کفیل کی جان کو خطرہ، اہلیہ نے ہائی کورٹ کو خط لکھا

ڈاکٹر کفیل خان کی اہلیہ شبستہ خان نے شوہر کی زندگی کو خطرہ قرار دیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر سرکاری عہدیداروں کو لکھے گئے اپنے خط میں شبستہ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سی اے اے مخالف مظاہروں میں شامل ہونے کی پاداش میں متھرا جیل میں قید اپنے شوہر کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈاکٹر کفیل پر اشتعال انگیز بیان بازی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، ایڈیشنل چیف سکریٹری (ہوم) اور ڈائرکٹر جنرل (جیل خانہ) اور دیگران کو لکھے گئے خط میں شبستہ نے کہا ، ’’میرے شوہر کو جیل میں ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے۔‘‘

شبستہ نے کہا کہ وہ جیل میں قید اپنے شوہر کی زندگی کے حوالہ سے خوفزدہ ہیں اور انہیں پورا تحفظ دینے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان کے شوہر کو سرگرم مجرموں سے دور عام قیدیوں کے ساتھ رکھا جائے۔‘‘

اہم خبریں: شاہین باغ میں سی اے اے مخالف مظاہرہ کے دوران دفعہ 144 نافذ

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے درمیان دہلی کے شاہین باغ میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں موقع پر بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔

دریں اثنا پولیس کی جانب سے ایک اطلاعاتی بورڈ بھی لگایا گیا ہے جب پر لکھا ہے، ’’آپ سبھی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ یہاں دفعہ 144 لاگو ہے۔ اس علاقے میں مجمع لگانے کا مظاہرہ کرنے کی کی اجازت نہیں ہے۔ اس کی خلاف قانونی کارروائی کا باعث بن سکتی ہے۔‘‘


احتیاط کے طور پر یہاں موجود ہیں: ڈی سی پی

شاہین باغ میں سیکیورٹی سخت کرنے پر ڈی سی پی آر پی مینا نے کہا، ’’یکم مارچ کو شاہین باغ مظاہرے کے خلاف احتجاج کے کافی میسیج وائرل ہوئے تھے۔ ہم نے امن کمیٹی اور مقامی رہنماؤں سے بات کی۔ سبھی نے متفقہ طور پر سی اے اے حامی احتجاج کو منسوخ کردیا۔ ہم احتیاط کے طور پر یہاں موجود ہیں۔‘‘

تمام انتظامات احتیاطاً اٹھائے گئے ہیں: جوائنٹ کشمنر

شاہین باغ میں دفعہ 144 کے نفاذ کے حوالہ سے جوائنٹ کمشنر ڈی سی سریواستو نے کہا، ’’تمام انتظامات احتیاطاً کیے گئے ہیں، ضلع کے اعلی افسران اور سی آر پی ایف کی بیرونی فورس اور دہلی پولیس ہمارے پاس ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ لوگوں میں امن اور سلامتی کا احساس برقرار رہے۔‘‘

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading