دہلی: جامعہ وائس چانسلر کے دفتر کے باہر طلبہ نے کیا مظاہرہ
دہلی میں طلبہ کے گروپ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر نجمہ اختر کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا ہے، طلبہ نے امتحان کی تاریخوں کا ری شیڈولنگ کرنے، پولیس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور طالب علموں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
Delhi: Group of students protest outside office of Jamia Millia Islamia Vice Chancellor Najma Akhtar seeking rescheduling of exam dates,registration of FIR against Police and ensuring of safety of students. pic.twitter.com/444sZ1cDzP
— ANI (@ANI) January 13, 2020
دہلی پولیس نے ہائی کورٹ سے کہا، ہم نے JNU سے CCTV فوٹج مانگے، لیکن کوئی جواب نہیں ملا
جے این یو میں ہوئے حملے جڑے سی سی ٹی وی فوٹیج کو لیکر دہلی پولیس نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ اس نے 5 جنوری کو ہوئے تشدد کے سی سی ٹی وی فوٹیج مانگے تھے، لیکن یونیورسٹی سے کوئی جواب نہیں ملا، پولیس نے یہ بھی کہا کہ اس نے واٹس ایپ سے دو گروپوں کی ڈٹیل بھی مانگی ہے۔
Correction: Delhi High Court issues notice to Apple*, Whatsapp, Google on petition of three JNU professors seeking to preserve CCTV footage, whatsapp conversations and other evidences related to January 5 violence at the University campus https://t.co/kN1Emjll0Y pic.twitter.com/kWZSljetxe
— ANI (@ANI) January 13, 2020
اے پی کے دارالحکومت کی منتقلی پرمایوس خاتون کی موت
حیدرآباد: آندھراپردیش کے دارالحکومت امراوتی کی منتقلی اور اس کے بجائے تین دارالحکومتوں کے قیام کی تجویز پر مایوسی میں ایک اور موت ہوئی۔ پہلے ہی حکومت کی اس نئی تجویز پر دو افراد کی مایوسی کے عالم میں موت ہوگئی تھی۔ تازہ طور پر ایک خاتون کی موت ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق امراوتی کے رائے پوڑی علاقہ کی 58 سالہ شیخ زینب حکومت کی اس تجویز کی مخالف تھی اور اس نئی تجویز پر وہ کافی مایوس رہنے لگی تھی۔ ان کے اراکین خاندان نے بتایا کہ مایوسی کے عالم میں ان کی موت ہوگئی ہے۔ زینب نے دارالحکومت امراوتی کی تعمیر کے لئے اپنی 2.15 ایکڑ اراضی اس وقت کی تلگودیشم زیرقیادت حکومت کو دی تھی۔
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شہر حیدرآباد میں احتجاج۔25نوجوان زیر حراست
حیدرآباد: شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شہر حیدرآباد کے ٹولی چوکی علاقہ میں احتجاج کرنے والے 25نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ گولکنڈہ پولیس نے یہ کارروائی کی۔ پولیس نے ان نوجوانوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات341, 290 r/w 149کے علاوہ سٹی پولیس ایکٹ کے تحت معاملہ درج کرلیا۔ یہ احتجاج کل شب 8.30 بجے بعض خواتین کی جانب سے شروع کیا گیا جس میں نوجوان شامل ہوگئے۔ نوجوانوں کے احتجاج کے سبب ٹریفک جام ہوگیا۔ احتجاجیوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے شہریت ترمیمی قانون، این سی آر اور این پی آر کو فوری واپس لینے کامطالبہ کیا۔ پولیس کی جانب سے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے احتجاجیوں کو منتشر کردیا گیا۔ کل شب تین بجے ڈی سی پی ویسٹ زون اے آرسرینواس نے پولیس کے جتھہ کے ساتھ پہنچ کر ان نوجوانوں کو حراست میں لے کر ان کو گوشہ محل پولیس اسٹیڈیم منتقل کردیا جہاں ان نوجوانوں نے صبح تک احتجاج کیا۔ گرفتار شدگان کو ضابطہ فوجداری کی دفعات 41 کے تحت نوٹس دیئے گئے ہیں اور بعد ازاں ان کو رہا کردیا گیا۔
آسام اسمبلی کے باہر AIUDF کے ممبران اسمبلی نے کیا مظاہرہ
آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے ممبران اسمبلی اور رہنماؤں نے آسام اسمبلی کے باہر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کیا۔
Assam: MLAs & leaders of All India United Democratic Front (AIUDF) stage protest against Citizenship Amendment Act (CAA), outside the state assembly. A special session of the assembly has been called today for extension of SC/ST reservation, passed by Parliament in December 2019. pic.twitter.com/UBDwcPSNRR
— ANI (@ANI) January 13, 2020
سبريمالا معاملے میں سپریم کورٹ میں ہو رہی ہے سماعت
سبريمالا معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت ہو رہی ہے، اس معاملے میں تقریبا 50 عرضیاں لگائی گئی ہیں، معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے 9 ججوں کی بنچ نے کہا کہ سبريمالا مندر معاملے میں 14 نومبر کو دیئے گئے جائزہ آرڈر میں جن سوالوں کا ذکر ہے، صرف انہیں سوالوں پر سماعت کی جائے گی۔
There are more than 50 review petitions, which had challenged the judgement of the Supreme Court allowing the entry of women of all ages in the Sabarimala temple in Kerala. The petitions are pending before the Supreme Court for final disposal https://t.co/NphnfQgekP
— ANI (@ANI) January 13, 2020
جے این یو میں نقاب پہنے حملہ آور لڑکی کی ہوئی شناخت
جے این یو میں 5 جنوری کو نقاب پہن کر حملہ کرنے والی لڑکی کی پولیس نے شناخت کر لی ہے، پولیس کے مطابق وہ لڑکی دہلی یونیورسٹی کی طالبہ ہے، پولیس نے کہا ہے کہ جلد ہی اس لڑکی کو نوٹس جاری کیا جائے گا۔
Delhi Police Sources: Those who have been served notice by Delhi Police will be interrogated in Jawaharlal Nehru University (JNU). Nine people have been told to join the investigation from today. https://t.co/mGXdN0Rpl5
— ANI (@ANI) January 13, 2020
عراق میں فوجی اڈے پر راکٹ حملے، چار فوجی زخمی
بغداد: عراق کے صلاح الدین صوبے میں اتوار کو فوج کے بالد فضائی فوجی اڈے کو نشانہ بنا کر کیے گئے راکٹ حملے میں کم از کم فضائیہ کے چار فوجی زخمی ہوئے گئے۔ اس سے پہلے امریکی فوج اس اڈے کو استعمال کرتی تھی، تاہم اس حملے میں کسی بھی امریکی فوجی کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ بالد فضائی فوجی اڈہ دارالحکومت بغداد سے تقریباً 90 کلو میٹر دور ہے۔
بالد عراق میں سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے اور یہ امریکی فوج میں لاجسٹک سپورٹ ایکٹی وٹی (ایل ایس ائے) ایناکونڈا کے نام سے مشہور ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی بھی گروپ نے نہیں لی ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ہدایت پر تین جنوری کو ایک مہم کے تحت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی کے نزدیک ایک ڈرون حملہ کرکے ایرانی ریوولیوشنری گارڈ کورپس کے قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کو قتل کر دیا گیا تھا۔
امریکہ کے مطابق سلیمانی عراق اور مغربی ایشیا میں امریکی سفارت کاروں اور فوجیوں پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ انہوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران عراق میں اتحادیوں کے ٹھکانوں پر کئی حملے کیے تھے جن میں 27 دسمبر کا حملہ بھی شامل تھا۔ اس حملے میں امریکی اور عراقی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ جنرل سلیمانی نے 31 دسمبر کو بغداد میں امریکی سفارت خانے پر ہوئے حملوں کو بھی منظوری دی تھی۔
اس کے جواب میں ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر کئی فضائی حملے کیے تھے۔ امریکہ نے جمعہ کو ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ نے اسلامک اسٹیٹ کے خلاف مہم میں عراقی فوج کی مدد کے لئے پانچ ہزار سے زائد فوجیوں کو عراق میں تعینات کیا ہوا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-