بلوچستان:پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سیٹلائیٹ ٹاﺅن میں بم کے ایک دھماکے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں پولیس کے ڈی ایس پی امان اللہ بھی شامل ہیں۔ وہ پولیس ٹریننگ کالج سریاب روڈ پر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
ایک ماہ قبل سریاب روڈ کے علاقے میں ان کے نوجوان بیٹے نجیب اللہ کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے کہا ہے کہ اس واقعے کے بارے میں مختلف پہلوﺅں سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔
کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حتمی بات کرنا قبل ازوقت ہوگا لیکن خدشہ یہ ہے کہ یہ خودکش حملہ ہوسکتا ہے۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ شہر کے اندر بڑی مساجد پر سکیورٹی سخت ہے لیکن گلی کوچوں میں مساجد کی سکیورٹی کا تھوڑا بہت مسئلہ ہوتا ہے۔ ’دشمن نے گلی کوچے کی اس مسجد کو اپنے لیے آسان ٹارگٹ سمجھ کر حملہ کیا‘۔
سیٹلائیٹ ٹاﺅن پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دھماکہ اس علاقے میں واقع مدرسہ دارالعلوم الشرعیہ کے مسجد کے اندر نماز مغرب کے دوران ہوا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ نماز مغرب کی دوسری رکعت کی ادائیگی کے دوران ہوا۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دھماکے کے باعث مسجد کے اندر اندھیرا چھا گیا۔