آمیزون میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لئے پڑوسی ممالک کی میٹنگ

ریو دی جنیرو:برازیل کے صدر جیئر بولسونارو نے کہا ہے کہ آمیزون ممالک کے رہنما چھ ستمبر کو کولمبیا کے شہر لیٹسيا میں میٹنگ کر کے ماحولیاتی پالیسیوں پر بات چیت کریں گے۔آمیزون کے بارانی حصوں میں لگی شدید آگ کے درمیان برازیل کی حکومت کی جانب سے بدھ کو ایک بیان جاری کرکے یہ اطلاع دی گئی ہے۔

جیئر بولسونارو نے چلی کے صدر سیبسٹین پنیرا کے ساتھ بدھ کو مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’ہم کوئی بھی دوطرفہ ا مداد قبول کر سکتے ہیں، کیونکہ مستقبل میں ایسے ہی حالات میں ہم بھی کسی ملک کی مددکر سکتے ہیں‘‘۔

جیئربولسونارو نے آمیزون کے جنگلات میں آگ بجھانے کے لئے چلی کی جانب سے چار طیاروں کو بھیجنے کی پیشکش کو قبول کر لیا ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے بعد برازیل کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہر ملک کی خود مختاری کو ذہن میں رکھتے ہوئے ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

خیال رہے آمیزون کے بارانی علاقوں میں ان دنوں شدید آگ لگی ہوئی ہے جس پر عالمی برادری نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

قابل غور ہے کہ آمیزون کے جنگل دنیا کے سب سے بڑے بارانی جنگلات میں ایک ہیں جسے ساڑھے سات ارب آبادی کے آکسیجن کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے آمیزون کے جنگلات کے تحفظ کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading