ممبئی۔ ۲۸؍جنوری: (نازش ہما قاسمی) شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے )این آر سی اور این پی آر کے خلاف ملک بھر میں احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پورا ملک جامعہ ملیہ اسلامیہ، شاہین باغ، جے این یو کی آواز میں آواز ملاکر حکومت سے سیاہ قانون کو واپس لیناکا مطالبہ کررہے ہیں۔ اسی درمیان بہوجن کرانتی مورچہ نے کل ۲۹؍جنوری کو ملک گیر بھارت بند کا اعلان کیا ہے۔ جسے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، امارت شرعیہ پٹنہ، جمعیۃ علماء ہند، راشٹر وادی آدیواسی ایکتا پریشد، شیڈول کاسٹ فیڈریشن، راشٹریہ مسلم مورچہ، چھترپتی کرانتی مورچہ، راشٹریہ مول نواسی سنگھ ، بھارتیہ ودیارتھی چھاتر پرکوشٹھ، آئی ایم پی اے، بام سیف پریوار سنگھ، بہوجن یوا ایکتا، بھارتیہ ودیارتھی مورچہ، راشٹریہ گھومنتو جن جاتی مورچہ، انڈین لائرس ایسوسی ایشن، لہوجی کرانتی مورچہ ، طلبہ یونین ، کاروباری تنظیموں سمیت ملک کی سیاسی وسماجی تنظیموں نے بھی حمایت دی ہے۔اس بند کی حمایت شاہین باغ کے مظاہرین نے بھی یک زبان ہوکر کی ہے۔
کل (آج) جنتر منتر پر ۱۱بجے شاہین باغ کی تینوں دادیاں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ’’چلو دہلی چلو‘‘ بینر تلے خطاب کریں گی۔ ممبئی سمیت ملک بھر میں بہوجن کرانتی مورچہ کا بینر عوامی جگہوں پر آویزاں ہے جس پر درج ہے ’’سی اے اے کی مخالفت میں، ای وی ایم کی مخالفت میں، ڈی این اے کی بنیاد پر این آر سی کی جائے اس کےلیے ۲۹؍جنوری کو ہم بھارت بند کررہے ہیں۔ ان بینروں اور پوسٹروں پر بام سیف کے وامن میشرام ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی سمیت دیگر اشخاص کی تصویریں ہیں۔ آج ٹوئٹر پر بھی دن بھر #کل بھارت بند رہے گا۔
ٹاپ ٹرینڈ کرتا رہا۔مولانا خالد سیف اللہ ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھارت بند کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ ’’ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور اس مقصد کے لئے جو آواز اُٹھے اُس کو قوت پہنچانا، بحیثیت مسلمان ہم سبھوں کا شرعی فریضہ ہے، CAA،NRC اور NRC کے لئے پہلے قدم کے طور پر NPR ظالمانہ کوششیں ہیں، جن کا مقصد ہندوستان پر منوواد کو مسلط کرنا اور مسلمانوں اور دلتوں کو اُن کے وطن سے محروم کر دینا ہے، حکومت کی ان ناپاک سازشوں کے خلاف بہوجن کرانتی مورچہ نے ۲۹؍ جنوری ۲۰۲۰ء کو ’’ بھارت بند‘‘ کا اعلان کیا ہے، اس مورچہ میں جناب وامن مشرام جیسا دلت لیڈر اور حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی جیسے معتبر اور صاحب نظر عالم دین شامل ہیں؛ اس لئے تمام مسلمانوں، انصاف پسند شہریوں اور ابنائے وطن سے درخواست ہے کہ وہ اس بند میں بھرپور تعاون کریں، یہ ملک سے، قوم سے، ملت سے اور مظلوموں سے محبت کا عین تقاضا ہے‘‘۔انہوں نے اپیل کی کہ کل ۲۹‘ جنوری کو سی اے اے او راین آر سی کے خلاف بند منایاجارہا ہے سبھی لوگ اسے تقویت پہنچائیں اور تائید کریں۔
اپنی دکانوں کو اور اپنے کاروبار کو بند رکھیں کیو ںکہ یہ ظلم کو روکنے کی کوشش ہے اور ظلم کو روکنے کی کوشش کرنا ہم سب کا دینی اور انسانی فریضہ ہے، البتہ اس بات کا خیال رکھاجائے کہ ہمارا احتجاج قانون کے دائرے میں ہو، ہم زبردستی کسی کی دکان بند نہ کرائیں، جو لوگ اپنی مرضی سے بند کرلیں ان کو بند کردیں لیکن زور زبردستی کا راستہ اختیار نہیں کریں، ہم ریلوے کو روکنے، اور ریلوے ٹریک کو جام کرنے سے بچیں، اسی طرح سڑکو ںکو جام کرنے سے اور بسوں گاڑیوں کی آمدورفت کو بند کرنے سے بچیں کیو نکہ اس سے مسافروں کو تکلیف ہوتی ہے، اسی طرح اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ مریضوں کو مسافروں کو ہمارے عمل سے تکلیف نہ ہو، نوجوان بچے توڑ پھوڑ میں مبتلا نہ ہوجائیں، پتھر بازی خدانخواستہ نہ کریں، تمام لوگ خاموشی کے ساتھ اپنے کاروبار کو بند رکھیں اور دعا کا اہتمام کریں، اگر آپ کی طرف سے کوئی غیر قانونی عمل ہوگا تو جولوگ فرقہ پرست ہیں ، جو سی اے اے لانا چاہتے ہیں، جو اس ملک میں این آر سی نافذ کرناچاہتے ہیں اور این آر سی کےلیے پہلے این پی آر لارہے ہیں ان کو تقویت پہنچے گی، ان کو تشدد کے ذریعے احتجاج کو کچلنے کا موقع مل جائے گا۔ اس لیے ہمارا احتجاج پوری طرح پرامن ہو، قانون کے دائرے میں ہو، کسی طرح کی زور زبردستی نہ ہو، اور دوسروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایاجائے، مجھے امید ہے کہ تمام لوگ اور وطن عزیز کے تمام باشندے، تمام بھائی ان باتوں کا خیال رکھیں گے‘‘۔