اور ماموں… ستمبر سے ستمبر تک! سب کچھ بدل گیا

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز، ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی‘ حیدرآباد۔ فون:9395381226


اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک سال بیت گیا۔ مگر لگتا تو یوں ہے جیسے کل ہی کی بات ہے۔ ستمبر 2019ء سے ستمبر 2020ء تک ساری دنیا بدل گئی۔ آپ تو چپکے سے چلے گئے۔ کسی کو تکلیف پہنچائے بغیر اور ہم آج بھی آپ کو اپنے اطراف  کے ماحول میں ڈھونڈ رہے ہیں۔ جانے کیوں ہر دبلا پتلا داڑھی والا شخص آپ جیسا نظر آتا ہے۔ جب بھی سعیدآباد کالونی میں رہنے کا موقع ملا‘ جب کبھی کانوں میں اذان کی آواز سنائی دی آپ ہی کی آواز لگتی۔ کتنی بار یہ گمان ہوا کہ قادریہ مسجد کی پہلی صف میں آپ اقامت کہہ رہے ہیں۔ کبھی محسوس ہوتا کہ دوسری صف میں سنت و نوافل پڑھ رہے ہیں۔ جانے کتنی بار مسجد کی سیڑھیوں پر کئی منٹ تک رُک کر انتظار کرتا رہا کہ آپ آئیں تو ساتھ سیڑھیوں سے اُترتے اُترتے بات کروں۔ پھر یاد آجاتا ہے کہ آپ تو جاچکے۔ رمضان کی عید کا دن بڑا آزمائشی تھا۔ ہر سال امی سے ملنے میں پہل آپ ہی کرتے تھے۔ ہماری امی آپ کی بڑی بہن جسے آپ ماں کا درجہ دیتے رہے۔ اس مرتبہ جیسے قدموں کو کسی نے جکڑ لیا تھا۔ عجیب سی عید تھی آپ کے  بغیر! اور پھر رمضان سے بقرعید کے درمیان کیا کچھ نہیں ہوا۔ شاید آپ ہوتے تو صدمہ برداشت نہ کرپاتے۔ جواں سال نوید یوں اچانک سب کو حیران و پریشان روتا بلکتا چھوڑ جائے گا کبھی خواب و خیال میں سوچا تک نہ تھا۔ اب بھی وہ منظر یاد آتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ آج تک بھی ہم اپنے آپ کو یقین نہیں دلاسکے کہ نوید ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ ان کا بچپن، لڑکپن، آپ کی ہمارے نظروں کے سامنے گذرا۔ خاندان کے اس نوجوان حافظ قرآن پر فخر ہوتا تھا۔ اور ان کے پیچھے پیچھے خالہ بیگم صرف دو دن کے وقفہ سے چلی گئیں۔ آپ کی چھوٹی بہن جسے آپ بہت چاہتے تھے۔ اور وہ بھی آپ کو اپنے اکلوتے بھائی کو اور مجھے اکلوتے بھانجے کو بہت چاہتی تھیں۔ مجھے یاد آیا کہ جب 1988ء میں نانی ماں کا انتقال ہوا تو خالہ بیگم نے آپ سے کہا تھا کہ امنی چلی گئیں۔ آپ چھوڑ کر نہیں جانا۔ آپ چلے گئے اور آپ کے پیچھے وہ بھی چلی گئیں۔ یہ کیسا آزمائشی وقت تھا۔ 24گھنٹے بعد خالو پاشاہ بھی نہیں رہے۔ آپ کے اور خالو پاشاہ کی (سالے بہنوئی کی) جوڑی بڑی مثالی تھی۔ آپ کبھی ایک دوسرے سے ناراض بھی ہوتے اور ایک دوسرے کو دیکھے بغیر رہ بھی نہیں سکتے تھے۔ جوگی پیٹ کی یادیں ہمیشہ رہیں گی اور پھر سعیدآباد کالونی میں تو 30برس تک ساتھ رہا۔ مسجد قادریہ کے آپ دونوں ہی مصلی تھے۔ کسی دن آپ نہیں آتے تو خالو پاشاہ بے چین ہوتے اور کبھی وہ نہیں آتے تو آپ کو تشویش ہوجاتی۔ آپ دونوں کے درمیان رابطہ کا ایک ذریعہ میں ہی تو تھا۔

ماموں… وقت کتنی تیزی سے گزررہا ہے۔ پلک جھپکتے ایک برس گزر گیا… اور ایک برس میں کیا کچہ نہیں ہوا۔ کرونا کی وباء نے ساری دنیا اُجاڑ دی۔ 2020ء کا آغاز تباہی و بربادی سے ہوا… چین کے شہر ووہان کی لیباریٹری میں اس عالمی وباء کی سازش کی گئی… دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا مفلوج ہوکر رہ گئی۔ صرف ہاسپٹلس‘ فارمیسی کے کاروبار عروج پر رہے… سڑکیں ویران، محلے سنسان، گھروں میں خوف و دہشت کا ماحول… ہر غیرت مند شخص گناہگار کی طرح چہرہ چھپائے.. اب بھی نظر آئے گا۔ فروری سے جولائی تک تو لگ رہا تھا گویا موت کا موسم آگیا ہے‘ ہر طرف موت ہی موت‘ تقریباً ہر گھر سے کوئی نہ کوئی بری خبر سننے کو ملتی… فون کی گھنٹی بجتی تو دل تیزی سے دھڑکنے لگتا۔ کسی اچھی خبر کی امید نہ ہوتی… اردو اخبارات میں انتقال کی خبریں‘ پوری پوری صفحہ ہوتیں… جسے دیکھو سانس کی تکلیف کی شکایت… پاسپٹلس میں ”بیڈز“ کی بلیک مارکیٹنگ… دس دس لاکھ بل ادا کرکے میتوں کو گھر لایا گیا… اور ماموں… کیسی مجبوری… کیسا نفسا نفسی کا ماحول… کوئی مزاج پرسی کے لئے نہیں جاسکتا۔ میت کا دیدار نہیں کرسکتا… تدفین کے لئے خاندان کے گنے چنے لوگ ہی ہوتے۔ جس گھر میں میت ہوتی چاہے انتقال کی وجہ کوئی بھی ہو‘ اہلیان محلہ ان سے دوری اختیار کرلیتے۔ بلکہ ایسے کئی واقعات بھی پیش آئے جب مسلم میتوں کو مسلم قبرستان کے بعض حرام خور متولیوں نے قبر کے لئے جگہ نہیں دی اور انہیں شمشان گھاٹ میں جگہ ملی۔ کئی ایسی میتیں بھی تھیں‘ جنہیں پولیس اور ایمبولنس کے ڈرائیورس نے لکڑی کی مدد سے قبروں میں اُتارا۔ انسان زندگی میں بہت کچھ سوچتا ہے‘ اپنوں کے لئے بہت کچھ کرتا ہے‘ مگر خود اس کا کیا ہوگا اسے پتہ نہیں ہوتا۔ علمائے کرام کا ارشاد ہے کہ ”وباؤں سے جاں بحق ہونے والے شہید ہیں“۔ یقینا ایسے کئی شہداء کا ذکر ہمیں تاریخ میں ملتا ہے‘ جن کے تقویٰ، بزرگی پر ایک عالم فخر کرتا تھا مگر شہادت کے بعد ان کے جسد خاکی کئی کئی دن تک پیوند خاک نہیں ہوسکے۔ خیر! یہ نفسا نفسی ہر انسان کو اپنی زندگی سے محبت‘ یا پھر احتیاط کا معاملہ ہے۔ مگر جو کچھ ان چھ مہینوں میں ہوا اُسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا اور ہم نے جو مناظر دیکھے ہیں‘ ہم نہ بھی ہوں تو ہماری تحریر تاریخ بن کر آنے والی نسلوں کو اِن واقعات کا پتہ دے گی۔

اللہ تعالیٰ نے کیسے کیسے آزمائشی دور سے گزارا۔ اور عبرت ناک مناظر دکھائے۔ اللہ کی پناہ! اور پھر اسی دوران ہم باپ بیٹوں (شہباز) کا کووڈ ٹسٹ پازیٹیو نکلا۔ اگرچہ کسی قسم کی علامات نہیں تھیں‘ اور نہ ہی ہم بیمار تھے‘ صرف رزلٹ کیا آیا… نفسیاتی اثرات ظاہر ہونے لگے۔ ایک طرف خاندان کے تین اہم ہستیوں کے اچانک بچھڑنے کاصدمہ‘ ہر طرف کسی نہ کسی کے گزرجانے کی اطلاعات کا بہت بڑا نفسیاتی اثر تھا۔ میرا معاملہ اور بھی گمبھیر تھا… اپنی فکر نہیں تھی‘ اپنی زندگی کے نشیب و فراز دیکھ چکا ہوں… جوان بیٹے کی فکر تھی۔ خود بھی دعائیں مانگیں‘ بہی خواہوں نے بھی دعاؤں سے نوازا۔

ایک مہینہ کیسے گزرا ہم ہی جانتے ہیں۔ اپنے گھر کی حد تک محدود موبائل ایک رابطہ کا ذریعہ… یوں صحت یاب ہونے کا کامل یقین تھا مگر کبھی کبھی وسوسے حوصلے پست کردیتے… ایک مہینہ بعد جب کووڈ ٹسٹ کا رزلٹ نگیٹیو آیا تو گھر سے باہر نکلے… ایک نئی زندگی… ایک نئی تمنا کے ساتھ…

ماموں‘ یہ اتفاق ہے یا قدرت کا نظام کہ ہرا یک سو برس میں اس قسم کی عالمی وبائیں پھوٹ پڑتی ہیں‘ جس سے دنیا کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ بعض  بڑی طاقتیں اپنے فائدے کے لئے یہ وبائیں پھیلاتی ہیں۔ ہوسکتا ہے‘ مگر سب سے بڑی طاقت تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہی کی ہے… اس کی مرضی اور حکم کے بغیر تو پتہ بھی نہیں ہلتا… ہوسکتاہے اللہ کی مرضی سے ہی دنیاوی طاقتیں ان وباؤں کے پھیلانے کا سبب بنتی ہوں تاکہ ا نسان کو جو اپنی حیثیت کو فراموش کرکے خود خدائی کے دعوے کرنے لگتا ہے‘ اسے اس کی حیثیت دکھائی جائے۔ اسے بتایا جائے کہ کس قدر بے بس‘ اور محتاج ہے وہ نام نہاد سوپر پاورس بھی ہمیں بے بس اور بے یار و مددگار نظر آئے۔ ان کی لگائی آگ میں وہ خود جھلس گئے۔ یقینا ہم نے اس بحران کے دور میں انسانی بے بسی اور محتاجی کا مشاہدہ کیا اور خود بھی اس تجربہ سے گزرے۔ اس خطرناک بلکہ ہولناک دور میں صرف ایک ہی سہارا تھا‘ ہے اور ہمیشہ رہے گا وہ اللہ رب العزت کا…

اعظم راہی نے آزاد نظم لکھی تھی کہ جب انسان ڈوبتا ہے تو تنکے کا سہارا تلاش کرتا ہے اور جب تنکا بھی نہ ملے تو خدا کو پکارتا ہے۔ بس سب ہی خدا کو پکار رہے تھے۔ یاد کررہے تھے۔ جنہیں ہدایت اور توفیق ہوئی‘ وہ گناہوں سے توبہ کرکے اللہ سے مدد طلب کررہے تھے۔ اور اللہ نے جو رحمن و رحیم، غفار اور غفور ہے اپنی رحمتوں سے ہمارے بشمول بے شمار افراد کو صحت یاب بھی کیا۔اگست سے اس وباء کی شدت میں کمی آئی ہے ہے۔ ڈاکٹرس بھی اس مرض کو سمجھنے لگے ہیں… لوگوں کا ڈر اور خوف کم ہونے لگا ہے۔ سڑکیں جو 1960 کی ٹریفک کا منظر پیش کررہی تھیں‘ اب دوبارہ بے ہنگم ٹریفک سے جام ہونے لگی ہیں۔ بازاروں میں چہل پہل لوٹ آئی ہے۔ ماسک اب بھی ہم لگارہے ہیں‘ مگر ناک اور منہ کی بجائے ٹھوڈی چھپاتے ہیں۔کل ہی ہم اپنی بے احتیاطی‘ حفظان صحت کے اصولوں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے بیمار ہوئے تھے۔ اب پھر سے وہی بے احتیاطی شروع ہوچکی ہے…..
اور ماموں‘ اور کیا بتاؤں… ایک سال میں کیا کیا بدل گیا۔ آپ کو بڑی دلچسپی تھی اطراف و اکناف کے حالات سے باخبر رہنے کی۔ دہلی کے فسادات ہوئے‘ بے گناہ جیلوں میں ہیں… ویسے یہ کوئی نئی بات نہیں… آپ ہوتے تو خوش ہوتے کہ حرمین شریفین جو ایک عرصہ تک بند کردیئے گئے تھے وہاں بھی آہستہ آہستہ اجتماعی عبادتوں کی اجازت دی جارہی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ حج 2020ء محدود عازمین کے ساتھ کیاگیا ہے۔ مسجدوں میں نمازی آنے لگے ہیں‘ پہلے مسلکی اختلافات نے ذہنوں میں فاصلے پیدا کررکھے تھے‘ اب عالمی وباء سے احتیاط کے نام پر صفوں میں دو مصلیوں کے درمیان فاصلے لازمی کردیئے گئے ہیں‘ اور اب بھی ہاتھ ملانے والوں کو دوست نہیں سمجھاجارہا ہے۔ اور ہاں‘ ایک طرف عالمی وباء سے سب پریشان تو بعض عرب ممالک نے اپنی مفادات کے لئے صہیونی طاقتوں سے سمجھوتہ کرلیا‘ قبلہ اول کو فراموش کردیا۔ ان لوگوں کے لئے کیارونا روئیں! ہمارے اپنے کتنے ایسے ہیں‘ جو اپنے اپنے مفاد کے لئے رشتوں کے تقدس کو پامال کردیتے ہیں۔
بہرحال ماموں! ایک سال گذر گیا۔ آپ یقین کریں کوئی دن آپ کے تذکرے کے بغیر نہیں گذرا آپ نے ساری زندگی دوسروں کے لئے تکالیف سہیں‘ قربانیاں دیں‘ اللہ رب العزت یقینا آپ کو آرام سے رکھا ہوگا۔ نوید کے کمسن فرزند نے اپنے خواب میں نوید‘ خالہ بیگم اور خالو پاشاہ کو تاج پہنے ایک باغ میں دیکھا ہے۔ اور حقیقت میں جنید اور چند لوگ خالو پاشاہ کی قبر کی تعمیر کے لئے قبرستان گئے تو کسی وجہ سے قبر کا ایک حصہ کھل گیا تھا‘ تقریباً ایک مہینہ بعد بھی خالو پاشاہ کا کفن بے داغ تھا۔ اور اندر سے خوشبو آرہی تھی۔ یقینا آپ بھی ایسے آرام سے ہوں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading