اورنگ آباد: 18 ہزار بسوں کو ایل این جی پر چلانے کا فیصلہ: دیواکرراﺅتے کا اعلان

اورنگ آباد:(جمیل شیخ): ڈیزل کے دام میں اضافے کی وجہ سے ایس ٹی کارپوریشن کو کروڑوں روپئے نقصان ہورہا ہے۔ اس نقصان کو کم کرنے کارپوریشن نے 18 ہزار بس گاڑیو ںکو ایل این جی پر جلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اطلاع وزیر ٹرانسپورٹ دیواکر راﺅتے نے دی ہے۔

دن بدن ڈیژل کے دام اضافے سے ایس ٹی کارپوریشن بڑے پیمانے پر نقصان ہورہا ہے۔ وزیرٹرانسپورٹ نے بتایا ریاست کے تقریباً ہر دیہات تک ایس ٹی بس پہنچ چکی ہے اور اسے بچانا ضروری ہے۔ لہذا ملک میں سب سے پہلے ایک نئی اسکیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہ۔ راﺅتے کے مطابق ڈیژل کے دام میں اتار چڑھاﺅ کے سبب ایس ٹی کو ہر سال ایک ہزار کروڑ کا نقصان ہورہا ہے۔ اس نقصان کو کم کرنے کے لئے ایل این جی پر چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ۸۱ ایس ٹی بسوں میں تکنیکی تبدیلی کی جائے گی۔ اس تبدیلی کے لئے ہر بس پر تقریباً ایک لاکھ۰۵ہزار روپئے خرچ ہونگے اور آئندہ چند دنوں میں ریاست کے مختلف ڈپومیں تقریباً۸۱ ہزار بسوں میں یہ تکنیکی کرکے انھیں ایل ین جی پر چلایا جائیگا۔

اورنگ آباد: کارپوریشن کی حدود میں گرانٹینڈ اسکولوں کی عمارتوں پر کمرشیل ٹیکس ہٹایا جائے
اورنگ آباد:(جمیل شیخ): اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن کی حدود میں چلنے والے سبھی گرانٹینڈ اسکولس کی عمارتوں پر کمرشیل ٹیکس نہ لگایا جائے۔ یہ مطالبہ شکشک سنسنتھا مہا منڈل کی جانب سے کیاجارہا ہے۔ مہاراشٹر راجیہ شکتی سنسھا مہامنڈل کے صدر وجئے نول پاٹل نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمرشیل ٹیکس عائد کئے جانے کی سبب تعلیمی اداروں کے ذمہ داران پریشان ہیں۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ میونسپل کارپوریشن کی حدود میں چلنے والے امدادی تعلیمی اداروں پر کمرشیل ٹیکس عائد نہ کیاجائے اس طرح لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کمپیوٹر سسٹم بند رہنے کے سبب چونکہ طلبہ کا تعلیمی نقصان ہورہا ہے اور وہ ای لرننگ سے محروم ہورہے ہیں اس لئے سبھی تعلیمی اداروں میں سولار سسٹم نصب کئے جائیں او رتعلیمی اداروں میں کمپیوٹر پروگرام کا علیحدہ علیحدہ منظور کیا جائے تاکہ حکومت کا ڈیجیٹل انڈیا کا خواب پورا ہوسکا ۔ اس پریس کانفرنس میں پروفیسر منوج پاٹل پروفیسر ایس پی جوڑ کر اور پروفیسر والمک سرا سے بھی موجود تھے۔
اورنگ آباد:ڈاکٹر رفیق زکریا کیمپس میں سوشل رضا کار تنظیمو ںکے لئے ورکشاپ
اورنگ آباد:(جمیل شیخ): جماعت اسلامی ہند کے ایچ آر ڈی شعبہ کی جانب سے legal aid and social activists developmentکے عنوان سے ایک ورکشاپ ڈاکٹر رفیق زکریا کیمپس میں آج رکھاگیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے پولس اور دیگر جانچ ایجنسیوں کی جانب سے دہشت گردی کے نام پر کئی بے گناہ افراد کو گرفتار کیا گیا اور برسوں سے کئی بے گناہ افراد وجیلوں میں بند ہیں لہذا ان معاملات پر قابو پانے اور دستور ہند نے شہریان کو کون سے اختیارات دئے ہیں۔ اور اسطرح کے مقدمات کی پیروی کس طرح سے کی جانی چاہئے ان تمام باتوں سے متعلق سوشل ایکٹویسٹ تنظیموں کی رہنمائی کے لئے یہ ورکشاپ رکھاگیا جہاں کوئل فاﺅنڈیشن نیو دہلی کے سہیل کے کے سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ تہور خان پٹھان اور پروجیکٹ لیڈ ممبئی کامن ویلتھ ہیومن رائٹس ای شیٹیو کے ڈالفی ڈسوز ا نے حاضرین کی رہنمائی کی اس موقع پر ایڈوکیٹ تہور پٹھان نے بتایا کہ گزشتہ دنوں مختلف معاملات میں دہشت گردی کے نام پر جتنے بھی نوجوانو ں کوگرفتار کیاگیا ہے ان میں سے ۰۹ فیصد نوجوان عدالتوں کے ذریعہ بے قصور پائے گئے لہذا اس طرح کے معاملات میں پیروری کرتے وقت کن قانونی ن کات کو مد نظر رکھنا چاہئے انھو ںنے کہا کہ بے شک دہشت گردوں کو ہرگز بحشنا نہیں چاہئے بلکہ انھیں پھانسی کی سزا دی جانی چاہئے مگر معاملات میں بے گناہ افراد کی گرفتاریوں پر بھی روک لگنی چاہئے۔ اس طرح کوئل فاﺅنڈیشن کے سہیل کے کے نے بتایا کہ آئی سی سی پی آ رکے سیکشن ۹ کے تحت ایسے افراد جنھیں عدالتوں نے بے گناہ مان کر رہائی دی ہے انھی ںحکومت کی جانب سے معاوضہ دیا جانا لازمی ہے اور اسطرح کی غلط کاروائی کرنے والے پولس افسران کے خلاف مقدمات چلا کر انھیں سزا دینا ضروری ہے۔ اور حکومت وانتظامیہ سے یہ سوال کیا جانا چاہئے کہ جب دہشت گردی کے مختلف معاملات میں گرفتار شدہ افراد بے گناہ مان لئے گئے تو پھر ان معاملات کا اصل مجرم کون ہے اور وہ آزاد کیو ںہے ۔ جماعت اسلامی ہند کے امی رمقامی الیاس فلاحی اور شعبہ ہیومن رائٹس ڈیولپمنٹ کے سکریٹری ڈاکٹر شاداب منور موسی نے اس ورکشاپ کی اہمیت او راس کے اغراض ومقاصدسے اس ورکشاپ میں این جی اوز اور دیگر سوشل ایکٹوییسٹ بڑی تعداد میں شامل ہوئے عادل مدنی محمد تحسین الدین صدیقی اور جماعت اسلامی کے دیگر عہدیداران واراکین نے اہم رول ادا کیا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading