اورنگ آباد: عصمت دری معاملے میں ایم آئی ایم کے سابقہ رکن سید متین کے خلاف مقدمہ: پستول کی دھاک پر ریپ کرنے کا الزام

اورنگ آباد، (مہاراشٹر) 13 مئی (ایجنسیز) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے معطل رکن کارپوریٹر سعید متین کے خلاف پونے کی چاکن پولیس نے عصمت دری کا ایک مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق پولیس نے متین کے بھائی محسن رشید سعید اور حامد صدیقی کے خلاف چھیڑخانی کا مقدمہ درج کیا ہے.واضح ہو کہ اس سے قبل نومبر 2018 میں بھی اورنگ آباد کے سٹی چوک پولس تھانہ میں سید متین پر ایک اور عصمت دری کا مقدمہ لگا تھا۔


یہ بھی پڑھیں

میرے بیٹے کو بے بنیاد الزامات کے تحت پھنسایا جارہا ہے: سید متین کی والدہ کی اسد الدین اویسی سے مدد کیلئے اپیل


تفصیلات کے مطابق متاثرہ خاتون نے سید متین پر الزام لگایا ہے کہ سید متین نے نشے کی دوا دیکر مہاراشٹر کے مختلف مقامات پر عصمت دری کی۔واضح ہو کہ اس شکایت میں سید متین کے بھائی محسن رشید سعید اور حامد صدیقی کا نام بھی ڈالا گیا ہے۔ اس معاملہ میں دفعہ 376, 328, 354(A), 344 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پونہ ڈی سی پی سمارتنا پاٹل نے لوک ستا آن لائن کو جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ متوفی خاتون موجودہ کارپوریٹر ہیں.

پولیس کے مطابق، کارپوریٹر متین اور متوفی خاتون دونوں ایک دوسرے سے پہلے سے ہی واقف تھے . 27 سالہ خاتون، کو سید متین نے تمہاری ماں بیمار ہے کہہ کر گاڑی میں دیگر دو بچوں کے ساتھ لے کر کھنڈالا کے واٹر پارک لے گئے. جہاں پر پستول کی نوک پر متاثرہ کی عصمت دری کی. اس کے بعد اورنگ آباد کی کرشنا ساگر ریسیڈنسی بارامتی شرناپورہ فاٹا، اورنگ آباد شہر اور ہرسول میں ایک لاج میں خاتون کو نشیلی دوا پلا کر بار بار عصمت دری کی گئی. خاتون سے کورے کاغذ پر دستخط بھی لئے گئے تھے . یہ سب 26 نومبر، 2018 سے 24 فروری 2019 تک ہوا ہے.

وارتا اور لوک ستا کےانپٹ کے ساتھ

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading