اورنگ آباد:(جمیل شیخ):میونسپل لائٹ سیکشن اور ایل ای ڈی پروجیکٹ کے لئے مقرر کردہ ایجنسی کی ناقص کارکردگی پر اسٹینڈگ کمیٹی اراکین نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور متعلقہ افسران کی خوب خبر لی۔ واضح رہے کہ آج بلائی گئی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں وقفہ سوالات کے درمیان اراکین نے میونسپل لائٹ سیکشن کی کارکردگی اور ایل ای ڈی پروجیکٹ کی تکمیل کے لئے مقرر کردہ ایجنسی کی کارکردگی پر کئی سوال اٹھائے۔
کارپوریٹر گجانن باروال راکھی دیسرڈا رشی کیش کھیرے عبدالنوید شلپا رانی واڑ کر سائرہ بانو نرگس شیخ اور سواتی ناگرے نے متعلقہ افسران کی خوب کھینچائی کی۔ ان لوگوں نے الزام لگایا کہ ایل ای ڈی پروجیکٹ کی تکمیل کے لئے مقررکردہ الیکٹران کمپنی کو اے ایم سی انتظامیہ ہر ماہ دو کروڑ ۲۷ لاکھ روپئے ادا کررہاہے اس کے باوجود متعلقہ ایجنسی سست روی سے کام کررہی ہے اس کے علاوہ جہاں ایل ای ڈی بلب لگائے جاچے ہیں وہ آٹھ دن میں ہی خراب ہوجاتے ہیں‘یہی نہیں لگائے گئے ایل ای ڈی بلب کی روشنی زیروبلب کی روشنی سے بھی کم ہے جس کی وجہ سے شہربھر میں اندھیرے کاراج ہے اور چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے اسی طرح اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر اوباش قسم کے لڑکے محلہ کی لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آجائے تو اس کے لئے ذمہ دار کون ہوگا۔
جس پر میونسپل لائٹ سیکشن کے کارگزار ایکزیکٹیو انجینئر شیخ قمر نے وضاحت کی کہ ایگریمینٹ کے مطابق متعلقہ کمپنی کو ایک سال میں ۰۴ ہزار ایل ہی ڈی بلب لگانا ہے۔ جس میں ۵۷ ہزار ایل ای ڈی بلب لگانا ہے۔ جس میں سے ۵۷ ویٹ کے آٹھ ہزار ۰۵ فیٹ کے ۰۰۲۸ اور ۱۳ ویٹ کے ۰۰۸۳۱ اس طرح جملہ ۰۴ ہزار ایل ای ڈی بلب لگانا ہے جس میں سے کمپنی اب تک ۳۲ ہزار بلب لگا چی ہے جن میں سے ۰۵۸ بلب بند ہیں متعلقہ کمپنی کو نوٹس دی جاچکی ہے کہ replaceجو ایل ای ڈی بلب بند ہوچکے ہیں انھیں فوری ریلیپس کیا جائے۔ اس طرح کوالیٹی جانچ کے لئے گورنمنٹ انجینئرنگ کالج سے خط وکتابت جاری ہے اور بذات خود وہ کالج جاکر ذمہ داران سے اس سلسلہ میںملاقاتیں کررہے ہیں۔
اور جلد ہی کئے گئے کاموں کی کوالیٹی جانچ کی جائیگی۔ شیخ قمر نے یہ بھی بتایا کہ شہر میں جواپرانے اسٹریٹ لائٹ ہیں ان میں سے ساڑھے تین ہزار لائٹس بند پڑے ہیں مگر فٹنیس کے لئے جو ایجنسیاں مقرر کی گئی تھی ان کی میعاد ختم ہوچکی ہے لہذا اس کام کے لئے نئے ٹینڈرس کال کئے گئے ہیںاور جلد ہی یہ مسئلہ بھی حل ہوجائیگا۔ انھو ںنے کارپوریٹر سیرڈا کی جانب سے اسٹریٹ لائٹس کی ٹائمنگ سے متعلق اٹھائے گئے اعتراض کو درست بتایا اور کہا کہ انھوں نے متعلقہ ایجنسی کو ہدایت دی ہے کہ جہاں جہاں اسٹریٹ لائٹس لگائے گئے ہیں وہاں پینل وائر ٹائمر نصب کئے جائیں جس کے بعد یہ مسئلہ ختم ہوجائیگا اور اپریل ۹۱۰۲ تک تمام ایل ای ڈی پولس پر پینل وائز ٹائمر لگادئے جائیںگے۔