جمعیة علماءمہاراشٹر نے قانونی امداد فراہم کی
ممبئی:23 جنوری (ورق تازہ نیوز)مہاراشٹر کے اورنگ آباد اور ممبئی سے قریب مسلم آبادی والے ممبرا سے گرفتار ۹ مسلم نوجوانوں کو آج اورنگ آباد کی خصوصی یو اے پی اے عدالت نے14 دنوں کے لیئے پولس تحویل میں دیئے جانے کے احکامات جاری کیئے نیز اس معاملے میں گرفتار کم سن ملزم کو جوئنائل جسٹس ہوم میں بھیج دیا گیا۔اس معاملے میں گرفتار ملزمین محسن، مظہر، محمد تقی، محمد سرفراز عثمانی، جمال نواب کو بروقت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) کے دفتر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آج تمام ملزمین کو یو اے پی اے عدالت کے جج چودھری نے مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس)کی جانب سے گرفتار ملزمین کو 14 دنوں کی پولس تحویل میں دیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔ اے ٹی ایس نے ملزمین پر الزام عائد کیا کہ وہ ممنو ع تنظیم داعش کے ہم خیال ہیں اور وہ ملک میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینا چاہتے ہیں ۔صدر جمعیة علماءہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیة علماءکی جانب سے ایڈوکیٹ خضر پٹیل نے ملزمین کے دفاع میں اپنا وکالت نامہ عدالت میں داخل کرتے ہوئے ملزمین کے خلاف لگائی گئی دفعات پر اعتراض کیا اور عدالت کو بتایا کہ یو اے پی اے قانون کی جن دفعات کا اطلاق کیا گیا وہ غیرآئینی ہیں۔اسی درمیان ایڈوکیٹ خضر پٹیل نے عدالت سے ملزمین کے میڈیکل چیک اپ کیئے جانے اورانہیں دوران تحویل وکلاءاور ملزمین کے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت طلب کی۔داعش کے ہم خیال ہونے کے الزامات کے تحت گرفتار ملزمین کی گرفتاری پر اپنے رد عمل کا اظہا کرتے ہوئے جمعیة علماءمہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزا ر اعظمی نے کہا کہ ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن جس طرح کی کہانی اے ٹی ایس نے بنا کر پیش کی ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہیکہ ملزمین کو صرف شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ملزمین کے دفاع میں جمعیةعلماءنے ایڈوکیٹ خضر پٹیل کی سربراہی میں وکلاءکی ایک ٹیم تیار کی ہے جو معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے نیز دہشت گردانہ معاملات کے تجربہ کار وکلاء(ممبئی و دہلی) سے بھی صلاح و مشورہ کیا جارہا ہے۔