اورنگ آباد : پڑے گاؤں میں مسلمانوں کی بستی میں قادیانیوں کا حملہ

اورنگ آباد:22/جنوری ۔شہر میں دن بہ دن قادیانیوں کی غنڈہ گردی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے آج پڑے گاوں روڈ سے آگے سروش اسکول کے قریب موجود مسلمانوں کے گھروں پر قادیانی غنڈوں نے پتھراؤ کیا جس کے باعث علاقے میں دہشت کا ماحول پیدا ہو گیا عوام کا الزام ہیکہ یہ سب کچھ پولس کی موجودگی میں ہوا اور پولیس تماشائی بنی رہی اس معاملے میں ہوئے پتھر بازی میں تقریباً پندھرہ افراد زخمی ہوئے تا دمِ تحریر پولس نے کیس درج کرلیا جس کی تفصیلات فراہم نہیں ہوسکی۔

اس معاملے میں مجلس اتحاد المسلمین کے قائد ناصر صدیقی نے بہترین نمائندگی کرتے ہوئے معاملہ کو رفہ دفہ کرنے میں پولس انتظامیہ کا تعاون کیا۔ ساتھ ہی علاقےکے مسلمانوں میں پھیلے دہشت کے ماحول کو کم کرتے ہوئے ناصر صدیقی نے ساکنان کو تیقن دیا کہ ان کی گرفتاری کی صورت میں وہ خود بھی گرفتاری دیں گے۔

واضح ہوکہ مذکورہ بستی میں غنڈہ صفت قادیانیوں کا ایک گروہ گذشتہ کئی سالوں سے علاقہ میں خوف وحراس کا ماحول پیداکرنے کی کوشش کرتا آرہاہے۔ راستہ کے گذنے والے افراد اور سبزی والوں کےساتھ بھی ان کی مارپیٹ بدستور جاری ہے، اس سے قبل بھی ان کے خلاف مقدمات درج ہوئے ہیں، لیکن ہرمرتبہ انہیں پابند کرکے چھوڑدیاگیا۔

آج دوپہر میں قادیانی غنڈوں نے مسلم بستی پر حملہ کرکے کافی توڑ پھوڑ مچائی اور کئی افراد کو زخمی کردیا اس بات کی اطلاع ملتے ہی مجلس کے قائد ناصر صدیقی اپنی ٹیم کے ہمراہ مذکورہ علاقہ پر پہنچے اور حالات کا قابو میں کیا،پولس کا ایک دستہ بھی فورا علاقہ میں پہنچا اور گشت کرکے ماحول کو پرامن بنانے کی کوشش کی گئی، وہیں مجلس کی دوسری ٹیم گھاٹی اسپتال میں زخمیوں کو شریک کروانے اور ان کا علاج کروانے کی کوشش میں مصروف رہی۔

علاقہ کے ساکنان نے الزام لگایا کہ قادنیوں کی عبادت گاہ میں تلواریں اور دیگر ہتھیار بھی رکھے ہوئے ہیں جس سے وہ ہمیشہ علاقے میں خوف پھیلاتے ہیں اور ہررابطہ کرنے والے کے ساتھ مارپیٹ کرتے ہیں۔ ناصر صدیقی نے کہاکہ پولس انتظامیہ کوان غنڈوں کے خلاف سخت کرروائی کرنے چاہئے انہوں نے پولس سے سوال کیاکہ کیا یہ علاقہ ہندوستان سے باہر ہیں؟ کیا یہاں سے گذرنے کیلئے پاسپورٹ ویزا کی ضرورت پڑے گی ؟

قادیانیوں کی اس حرکت کی وجہہ سے شہر میں بھی بے چینی پائی جارہی ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ مسلمانوں پر حملہ کرنے والے قادیانی غنڈوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اطلاعات کے مطابق پولس نے تقریبا ً 15افرادکو حراست میں لیا ہے، جس میں دونو ں طرف کے لوگ شامل ہیں ساتھ ہی قادیانیوں کے علاوہ مسلمانوں پر بھی ایف آئی ار درج کی گئی ہے ، لیکن تادم تحریر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading