بابری مسجد کیس کو صحیح طور پر دیکھا جائے تو اسے صرف ملکیت کے نقطہ نظر سے ہی دیکھا جانا چاہئے تھا۔ یہ معاملہ شروع بھی ایک ملکیت تنازعہ کے طور پر ہی ہوا تھا ، لیکن اس معاملے کو فریقین نے پچھلے 70 سالوں میں صرف نفرت کی سیاست کی وجہ سے زندہ رکھا جس کے نتیجے میں یہ مسئلہ ملک کے سنگین مسائل میں سے ایک بن کر ابھر گیا اور قانونی امور کے دائرے سے باہر نکل کر یہ ایک امن وامان کا مسئلہ بن گیا۔ایک فریق وہ تھا جو قانونی انصاف چاہتا تھا ، امن و امان بھی ان کے لئے اتنا ہی عزیز تھا اور دوسرا فریق ، جو اپنے نقطہ نظر کو منوانے کے لئے پرعزم تھا اور قانونی نقطہ نظر سے یکطرفہ فیصلے کی توقع بھی رکھتا تھا لیکن اسے امن وامان کی پرواہ نہیں تھی۔ ایسے میں ایک تیسرا فریق بھی تھا جو خود کو بے بس مان کر گونگا بنا ہوا تھا۔
انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو ملکیت کے اس تنازعہ پر آئے اس فیصلے سے مسلم فریق کا اتفاق ظاہر نہ کرنا عین ممکن ہے۔ عدالت کیلئے اس طویل قانونی لڑائی کا فیصلہ دیتے وقت ملک کے امن وامان سے نظر ہٹانا بھی ممکن نہیں تھا،کیونکہ عدلیہ کے لئے اپنے فیصلے میں ‘انصاف’ دینے یا ‘حل تلاش کرنے’ کے نظریہ سے نجات پانا ممکن نہیں تھا اور نہ ہی ملک کے حالات ایسے تھے۔ شائد یہ ممکن تھا کہ عدالت انصاف والا فیصلہ سنا سکے ، لیکن عدالتی نظام اس کیلئے بے یار و مددگار ہوسکتا تھا۔ شاید اسی لئے عدالت نے باہمی افہام و تفہیم کی ثالثی کی راہ پر نگاہ ڈالی ، حالانکہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ وہیں موجودہ حکمران جماعت کی نیت اور منصوبے سے ہر کوئی واقف ہے بی حکمران جماعت نے بھی عدالت کے فیصلہ کو من وآن منوانے کیلئے سخت منصوبہ بندی کی اور اپنے اثر و رسوخ کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو پابند کرانے کی خوب کوشش کی۔ ان سب کے بیچ مسلمانوں کا موقف قابل ستائش رہا جنھوں نے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے بہتر حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔
حکمراں بابر الزام سے بری
عدالت ے نے یہ مانا ہے کہ سولہویں صدی میں تعمیر اس مسجد کی بنیاد میں آثار قدیمہ نے جو کچھ پایا وہ ممکنہ طور پر بارہویں صدی کا ڈھانچہ تھا جو کسی اسلامی ڈھانچے کا حصہ نہیں تھا لیکن اس نے یہ بھی واضح کردیا کہ جب یہ مسجد تعمیر کی گئی تھی تب یہاں توڑنے کے لئے کوئی مندر نہیں تھا۔ اس سے بابر کو مندر توڑنے کے الزام سے بری تو کرہی دیا گیا ۔
کیا اس فیصلے کا اثر دیگر مساجد پر بھی پڑے گا
پارلیمنٹ میں 1991 میں منظور ریلیجیس پلیسیس آف ور شپ ایکٹ کے تحت 15 اگست 1947 کے بعدسے ملک میں موجود منادر اور مساجد اپنی اپنی جگہ ویسے ہی برقرار رہینگے۔ صرف ایودھیا تنازعہ اس سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔ لیکن اب ایودھیا تنازعہ پر فیصلہ آجانے کے بعد اس طرح کے کسی دوسرے معاملے کے سامنے آنے کا امکان بھی نہیں رہا۔ جس سے نفرت کی سیاست کرنے والوں کو لگام بھی لگ گیا ہے۔
5 ایکڑ اراضی اور ہم
عدالت نے یہ بھی واضح کردیا کہ مسجد میں مورتی رکھنا غیر قانونی تھا اور مسجد کی شہادت بھی غیر قانونی تھی ۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کو متاثرہ اور مظلوم تو مانا گیا لیکن دگنی زمین دے کر انصاف کے بجائے حل پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اب اس 5 ایکڑ اراضی پر مختلف رائے سامنے آرہی ہے۔ ۔تاہم اس معاملہ میں اور اس کے آگے کی حکمت عملی پر سنی وقف بورڈ کو بابری مسجد ایکشن کمیٹی اور پرسنل لاء بورڈ سے مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کرنا چاہیے ۔اور اس فیصلے کی ہر کسی کو تائید بھی کرنا چاہیے ۔
نفرت کی سیاست نے ملک کی جمہوریت کو چوٹ پہنچانے کی جو کوشش کی ہے اس کی اہم وجہ فراموش کردی گئی مسلمانوں کی شاندار تاریخ اور ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی بقا کیلئے دی گئی مسلمانوں کی فراموش شدہ قربانیاں بھی ہیں۔ بھلے ہی عدالت سے ملنے والی اراضی کو خیرات سمجھ کر نہ لیا جائے لیکن عوامی چندے سے ہی صحیح ایودھیا میں 5 ایکڑ اراضی لینا چاہیے اور اس پر بابری مسجد کے ساتھ ساتھ عظیم مسلم مجاہدین اور تاریخ ہند میں مسلمانوں کے کردار کو اجاگر کرنے کیلئے یادگار مسلمانان ہند کی ایک عمارت تعمیر کرنا چاہئے۔
نئی شروعات
عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اس سے اتفاق بھی نہ رکھنے اور امن و بھائی چارے کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنے والے تمام مسلمانوں اور مسلمانوں کی اپیل کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہندو اور پسماندہ طبقوں کو یقیناً فخر محسوس ہوا ہوگا کہ سماج کا تانا بانا آج بھی سیکولر بنیادوں پر قائم و دائم ہے۔ اور یہ رویہ دونوں سماجوں کی ترقی کیلئے مثبت پہل بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

فاروق احمد ترجمان۔ ونچت بہوجن آگھاڑی، مہاراشٹر