اندریش کا درالعلوم دیوبند دورہ ’دوستانہ تعلقات‘ قائم کرنے کی کوشش!

آر ایس ایس پرچارک اور مسلم راشٹریہ منچ کے صدر اندریش کمار کی دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم سے ملاقات موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا کے بعد دیگر ذرائع سے بھی اس ملاقات پر منفی اور مثبت تبصرے موصول ہورہے ہیں ۔ دیوبند کے دانشوران کی اگر بات کی جائے تو اس میں بھی 80فیصد دانشوروں کا کہنا ہے کہ اندریش کمار کی دارالعلوم میں آمد چاہے اتفاقی لمحات کیوں نہ ہوں، لیکن اسے کیش کرنے کی ضرور ت ہے۔

اس سلسلہ میں یوپی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے کہا کہ اندریش کمار جی کی دیوبند دارالعلوم میں مدعو یا غیر مدعوآمد کے حوالے سے مختلف الجہات بحثوں کا بازار گرم ہے۔سوشل میڈیا چمپئن حضرات اس کو اپنی اپنی نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور مضبوط سے مضبوط ترین دلائل پیش کر رہے ہیں۔ ان سب سے قطع نظر یہ سوال اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ موجودہ سنگین ترین حالات میں جب کہ ہزاروں خداؤں کی پرستش کرنے والے ایک ہو چکے ہیں اور اللہ وحدہٗ لاشریک کی عبادت کرنے والے بغیر امام کی تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ملت اسلامیہ اپنے ہدف اصلی یعنی دعوت الی اللہ کو پانے میں کامیاب ہو سکے گی؟ صحیح بات یہ ہے کہ اسوقت برادران وطن کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی جو بھی راہیں فراہم ہو سکتی ہوں انہیں اختیار کرنا چاہئے۔

ڈاکٹر عبید اقبال کمال کا کہنا ہے کہ ایک صحافی نے اپنی یہ تحقیق پیش کی ہے کہ اندریش جی دارالعلوم میں خود سے نہیں آئے بلکہ انہیں بلایا گیا ۔اگر فی الواقع ایسا ہوا بھی ہے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔انہوں نے کہاکہ اس رائے میں جان ہے کہ دیوبند کو ناگپور جانا چاہئے۔ اب موقع ملا ہے تو اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دیوبند کو ہی نہیں بلکہ ملت اسلامیہ کے تمام نمائندہ علماء کو متحدہ طور پر ناگپور کی طرف جا کر حالات حاضرہ پر سنجیدہ گفتگو کرنا چاہئے۔ اتحاد و اتفاق کے حوالے سے ودود ساجد صاحب کی فکر انگیز تحریر اور سیکولرزم و نیشنلزم کے تعلق سے مولا نا ندیم الواجدی کی عالمانہ گفتگو میں بہت سے اشارات ہیں، انہیں سامنے رکھ کر ہمیں کوئی لائحہ عمل طے کرنا ضروری ہے کیونکہ ’’ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں۔ ورنہ ان بکھرے ہوئے ذروں سے کیا بات بنے‘‘۔

اس سلسلہ میں ادارہ خدمت خلق کے بانی اور عالم تحریک کے سربراہ مولانا حسن الہاشمی نے کہا کہ آرایس ایس کے سینئر لیڈر اندریش کمارکا دارالعلوم پہنچنا کئی طرح کے شک وشبہات کے ساتھ سوالات پیدا کرتاہے ۔ دارالعلوم دیوبند اگرچہ سب کے لئے کھلے ہیں، لیکن ذمہ داران کو سواد اعظم جذبات واحساسات کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نظریاتی اختلافات کے باوجود اتحاد کی راہیں کھلی ہونا خوش آئند ہے لیکن آرایس ایس کا وہ شخص جو ہمیشہ عملی طور پر بھی زک پہنچنانے کا ملزم ہو جس کے نام کے ساتھ بھگوا دہشت گردی کا عنوان قائم ہے اس کے استقبال کے لئے تیار رہنا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ ہمیں مثبت فکر اختیار کرنی چاہئے اور دارالعلوم دیوبندکی جانب سے وضاحتی بیان پر اعتماد کرلینا چاہئے۔

بدر اکیڈمی کے ڈائریکٹر اور قانون داں ارشد علی خاں ایڈوکیٹ نے کہا کہ کل تک جو فکر مسلمانوں اور ان کے مدارس کے خلاف فضا کو زہر آلود کرنے میں مصروف تھی ، زمامِ اقتدار سنبھالنے کے بعد شاید ان کی سمجھ میں آگئی کہ علمی سطح پر نفرت کی بنیاد پر نیک نامی حاصل نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ملک کی تعمیر وترقی کو خاطر خواہ رفتار دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی احساس کے نتیجہ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلمانوں کا وشواس جیتنے کی بات کی اور اندریش کمار جیسے آرایس ایس کے رہنما بھی فاصلوں کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ ارشد علی خاں ایڈوکیٹ مزید کہتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دارالعلوم دیوبند میں اندریش کمار کا پہنچنا اور یہ کہنا کہ وہ خیرسگالی کا پیغام لے کر آئے ہیں ، خاصا اہمیت کا حامل ہے اوراسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ملت اسلامیہ کے ذمہ داران کو اس موقع پر مثبت نظریہ اور حکمت اختیارکرتے ہوئے اس اتفاقی لمحہ کو کیش کرنا چاہئے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading