
بہت افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جا رہی ہے کہ شیخ الحديث جامعہ سلفیہ بنارس مولانا علی حسین صاحب سلفی کا آج بروز جمعرات بتاریخ 23 جولائی انتقال ہوگیا ۔
#ShaikhUlHadeesh #Jamia #Salfia #Ali #Hasan #Salfi
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
شیخ طاہر حسین سلفی استاد جامعہ سلفیہ بنارس
بہت ہی افسوس کے ساتھ اطلاع دی جا رہی ہے کہ آج بروز جمعرات 23 / جولائی بعد نماز ظہر سوا دو بجے دار الضیافہ کے فیملی کوارٹر میں جامعہ سلفیہ کے مفتی، نحو کے امام اور بخاری شریف کے استاذ ،میرے محسن ،مشفق و مربی، استاد محترم، شیخ الحديث جامعہ سلفیہ بنارس مولانا علی حسین سلفی محقق کتاب” فتح المغیث للسخاوی رحمہ اللہ” کا انتقال ہوگیا ہے۔
انا لله وانا اليه راجعون.اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه ووسع مدخله واكرم نزله وأدخله جنات النعيم
ستارے زمین کے بجھے جارہے ہیں
ہمارے اکابر اٹھے جا رہے ہیں
شیخ واقعی بہت ہی فاضل استاذ تھے آپ سے ہمیں بلا مبالغہ و بلا ناغہ بہت کچھ نحو ، حدیث، تاریخ، منطق ،اصول حدیث،فقہ و فتاوی’ ،عربی نظم و نثر کی ترجمانی،عبارت کی تصحیح،بلاغت بہت کچھ سیکھنے کو ملا،یقین ہی نہیں ہوتا کہ استاد محترم کا انتقال ہوگیا ہے لیکن اللہ کے فیصلہ کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔
مجھے ابھی بھی لگ رہا ہے کہ ابھی آپ سے "مجموعۃ من النظم والنثر ” کتاب عالم اول (ب) کلاس میں بیٹھ کر پڑھ رہا ہوں یا آپ سے فضیلت اول کی کلاس میں بیٹھ کر موطا امام مالک رحمہ اللہ پڑھ رہا ہوں ،اور کبھی دل میں بات آتی ہے کہ شیخ ابھی بدایۃ المجتہد ج/٢ پڑھا رہے ہیں ،یا سوچتا ہوں کہ فضلیت ثالث کے روم میں آپ سے پہلی ہی گھنٹی میں صحیح بخاری جلد ثانی پڑھ رہا ہوں اور کبھی فضیلت ثالث ہی کی گھنٹیوں میں سے آخری گھنٹے میں آپ سے تاریخ التشریع الاسلامی اور”رحمۃ للعالمین پڑھ کر یا آخری گھنٹی ہی میں بیٹھ کر آپ سے کچھ علمی باتیں کررہا ہوں۔
شیخ رحمہ اللہ نے "رحمۃ للعالمین” جو سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر معروف و مشہور کتاب ہے،جس کے مؤلف قاضی سید سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ ہیں آپ کی کتاب فضیلت ثالث میں ہم لوگوں کے زیر مطالعہ تھی ،آپ نے ہمیں سو میں پورے سو نمبر دیے جو کہ میرے لیے فضیلت ثالث میں میرے لیے ایک امتیازی نمبر تھا اس فن میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زندگی کے گوشہ سے تعلق رکھتا تھا۔
شیخ کبھی ناراض نہیں ہوتے میں نے ایک مضمون لکھا تھا اسی دوران تو شیخ نے میری کافی مدد کی تھی ” صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مابین تفسیری اختلافات اور اس کی حقیقت” جو میرے نام سے 2014ء جامعہ سلفیہ بنارس کے سالانہ مجلہ "المنار” کے بالکل شروع ہی میں
چھپا ہوا ہے اس پر شیخ نے نظر ثانی کا فریضہ انجام دیا تھا۔
ہم اس نظر ثانی پر بھی استاد محترم شیخ علی حسین سلفی رحمہ اللہ کے ممنون ہیں ۔
شیخ نے عالمیت ثانی کے مقالے میں بھی میرا علمی تعاون کیا جسے میں بھلا نہیں سکتا، میرے مقالے کا عنوان تھا "خدمت حدیث اور علمائے اہل حدیث کی مساعی پندرہویں صدی ہجری میں” اس مقالے کی تکمیل پر میں ابھی بھی شیخ کے علمی،وقلمی تعاون کو بھول نہیں سکتا جہاں بھی مجھے عربی عبارت وکے سمجھنے میں دشواریاں ہوئیں میں نے آپ سے بلا جھجک پوچھا اور آپ نے اپنی مصروفیات کے باوجود بھی ہمیں پورا پورا وقت دیا اور کبھی ناراض نہیں ہوئے کیونکہ آپ کی صلاحیت کا مجھے بخوبی اندازہ تھا کہ جو آپ بتا سکتے اور رہنمائی کرسکتے ہیں شاید دوسرے اساتذہ اتنی بہتر جانکاری نہ دے سکیں ۔
آپ سے میں لائیبریری ہی میں کسی بہانے سے گھنٹی چھوڑ کر بھی مل لیتا بھلے ایک دن کسی اور درس سے غائب ہوجاؤں وہ مجھے منظور رہتا تھا مگر پوچھنے کا موقع تفصیل سے آج کے اس دور میں گھر میں تو ملے گا نہیں تو پھر وہی لائیبریری یا کلاس ہی تھا ۔
آپ کی عادت تھی کہ آپ فضیلت ثالث کے طلبہ کی حاضری لینے اور رجسٹر مینٹین کرنے کے لیے مجھے اکثر کہتے رہتے جس میں ہم طلبہ اپنی حاضری درج کراتے اور کبھی کوئی طالب علم تاخیر کرجائے تب بھی شیخ اسے کلاس میں بیٹھنے دیتے ،شاید کہ ایسا فضیلت ثالث کی کلاس میں دیکھا ورنہ عالم اول میں تو شیخ کلاس میں اور سخت رہتے تھے،اچھے اچھوں کی عبارت خوانی داؤں پر لگ جاتی تھی،ہم پہلے پہلے کے طلبہ بتاتے ہیں کہ شیخ کے یہاں نحوی غلطی معاف نہیں ہوتی ،غلط عبارت خوانی پر مرغا بننا تو طے رہتا تھا۔
شیخ طلبہ کے لیے بہت فکر مند بھی رہتے تھے کہ عالم اول میں پہونچ گیے اور عبارت میں بھی غلطیاں یعنی ایسا ابتدائی درجات میں ہو تو چلے مگر عالمیت کے مرحلہ میں کچھ تو ذہن نحو اور عبارت کا ترجمہ،یا نحوی ترکیب تو آنی ہی چاہیے۔
لھذا ہم آپ کے لئے دعاگو ہیں اور آپ کی موت پر ہمیں یقین ہے یقین اب کیوں نہ کروں کیونکہ ہمیں موت پر یقین ہے کہ ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور ہر نفس کو قبر میں داخل ہونا ہی ہے ،جب اس موت نے انبیاء ورسل کی جماعت کو نہیں چھوڑا تو ائمہ و صلحاء کی جماعت کب اور کیوں اس موت سے محفوظ اور بچ پائے گی ۔؟
تاہم کیا لکھوں مجھ سے تو ابھی اس وقت لکھا بھی نہیں جارہا ہے سوائے” إن العين تدمع والقلب يحزن ولا نقول إلا ما يرضى ربنا وإنا بفراقك يا شيخنا لمحزونون”
پھر بھی لکھنے کی کوشش کررہا ہوں ۔
آپ کی پیدائش 23/جنوری 1952ء بمطابق 20/07/1371 ہجری میں پاکوڑ ضلع کے ایک گاؤں بڑشرشاہ میں ہوئی تھی ،ابتدائی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے جامعہ سلفیہ کا قصد کیا اور اپنی محنت کی وجہ سے جامعہ میں شہرت پائی اور فراغت کے بعد سے تاحال تدریس کے منصب پر فائز رہے اور اس کے علاوہ جامعہ کے تعلیمی کمیٹی کے رکن بھی تھے اور افتاء کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔
آپ کی وفات نہ صرف جماعت وجامعہ سلفیہ بنارس بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے ۔
آپ کی تالیفات:
(1) آپ کی تحقیق شدہ کتاب "فتح المغیث للسخاوی ” کافی معروف ومتداول ہے اور اس کے کئی ایڈیشن عرب ممالک سے چھپے ہوئے ہیں جو آپ نے اپنی محنت شاقہ اور لگن سے دس سالوں کے عرصہ میں تیار کیا تھا اس کتاب کی تحقیق وتعلیق چار جلدوں میں آپ نے کی جو کم و بیش دو ہزار صفحات پر مشتمل ہیں اور فتح المغیث للسخاوی کے تمام نسخوں میں شیخ کی تحقیق وتعلیق سب سے معتبر ومستند ہے ۔
اس کے علاوہ شیخ کی اور بھی تالیفیات ہیں :
(2)العلامہ نواب صدیق حسن خان البھوفالی حیاتہ وآثارہ
عربی میں تقریباً چار سو صفحات پر مشتمل ہے جو ابھی غیر مطبوع ہے۔
(3) نقض المنطق ،مولانا ابوالعاص وحیدی حفظہ اللہ کا مقالہ اس کی تعریب ،یہ کتاب چالیس صفحات پر مشتمل ہے۔
(4) عنایۃ علماء اہل الحدیث بمسئلۃ التوحید،یہ کتاب در اصل ہدایۃ المستفید شرح کتاب التوحید کے اردو مقدمہ کی تعریب ہے جو طبع شدہ ہے۔
(5) اعجاز القرآن مؤلف مولانا مجیب الرحمٰن بنگلہ دیشی بزبان بنگلہ کا اردو ترجمہ جو جامعہ سلفیہ کے طلبہ کے تعاون اور شیخ کی تصحیح سے مطبوع ہے۔
(6) رسالہ رفع الیدین
(7) رسالہ آمین بالجہر
(8) رسالہ نماز جنازہ
(9) منہج سلف
(10) اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے یا عرش و فرش دونوں پر،یہ کتاب ایک ماتریدی،بدعتی کا جواب ہے۔
(11) سود اسلام کی نظر میں
(12) فتاویٰ جو جامعہ سلفیہ کے دار الافتاء کے رجسٹر میں محفوظ ہیں۔
استاد محترم نے اپنے پیچھے چھ بیٹیاں اور دو بیٹے چھوڑے
جن کے اسماء یہ ہیں : جمیلہ خاتون ،نبیلہ خاتون،فضیلۃ خاتون،سعدیہ خاتون،حلیمہ خاتون ،علیمہ خاتون اور دو بیٹے حافظ عبدالحلیم و عبدالعلیم کو چھوڑا،جن میں بالترتیب چار لڑکیاں شادی شدہ اور صاحب اولاد ہیں۔
اللہ تعالیٰ سب کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
واقعی اس سال کو "عام الحزن” غم کا سال کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ،کیونکہ یکے بعد دیگرے معتبر علماء کرام کی وفات،اکابر و علمی شخصیات کا دنیا سے رخصت ہوجانا،ایک طرف علمی خسارہ وہیں دوسری طرف کرونا کیسی مصیبت سے جانی و مالی خسارہ ،یقینا غم و اداسی کے بادل ہم پر ہر وقت منڈلا رہے ہیں۔
پھر بھی جب ہزاروں غم پر صبر کرلیے ہیں تو اس غم کو بھی ہمیں کو برداشت کرنا پڑے گا واقعی یہ ایسا غم ہے کہ پورے ملک و جماعتی حلقوں میں سناٹا سا چھا ہے اور ملک کے مختلف حصوں سے تعزیتی کلمات آنے لگے ،شیخ علی حسین سلفی رحمہ اللہ کی وفات پر جہاں پورا ملک رنج و الم میں ہے وہیں ہم سب فارغین جامعہ سلفیہ بنارس قدیم وجدید سبھی آپ کے لئے دعاگو بھی ہیں کہ اللہ آپ کی بشری خطاؤں کو درگزر فرمائے اور آپ کے درجات بلند فرمائے،اور آپ کی قبر کو نور سے بھر دے اور ہم سب فارغین جامعہ سلفیہ مرکزی دار العلوم اور آپ کے قدیم وجدید شاگردوں و جملہ مستفیدین کو آپ کے حق میں صدقہ جاریہ بنائے آپ کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے،اور آپ کی دینی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور جامعہ سلفیہ بنارس کو آپ کا نعم البدل عطاء فرمائے آمین یارب العالمین
غمزدہ : افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری،ممبئی وجملہ ابناء جامعہ سلفیہ مرکزی دارالعلوم بنارس الھند
7379499848
23/07/2020