کیا یوپی کو 4 حصوں میں بانٹنے کی کوئی منصوبہ بندی ہے؟ بی جے پی وضاحت کرے: عمران پرتاپ گڑھی

نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے اتر پردیش کو چار حصوں میں تقسیم کرنے سے متعلق وزیر اوم پرکاش راجبھر کے بیان پر مرکز اور بی جے پی سے وضاحت طلب کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا حکومت کی سطح پر اتر پردیش کی تنظیم نو کے حوالے سے کوئی منصوبہ زیر غور ہے یا راجبھر کا بیان ان کی ذاتی سیاسی رائے ہے۔

عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ اوم پرکاش راجبھر مرکزی وزیر داخلہ اور وزیر اعظم کے قریبی لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر اتر پردیش حکومت کا ایک کابینی وزیر یہ کہتا ہے کہ آنے والے وقت میں ریاست کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے تو اس بیان کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو واضح کرنا چاہیے کہ آیا حکومت اتر پردیش کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کی کوئی منصوبہ بندی کر رہی ہے یا یہ صرف راجبھر کا سیاسی خیال ہے۔

انہوں نے بابا رام دیو کی جانب سے سماجی خلیج بڑھنے اور خانہ جنگی جیسے حالات کا خدشہ ظاہر کیے جانے پر بھی ردعمل دیا۔ عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ممکن ہے بابا رام دیو تک حکومت کی کوئی اندرونی رپورٹ پہنچی ہو، جس کی بنیاد پر انہیں سماجی خلیج بڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے اس خلیج کو کم کرنے کی بات کرتی رہی ہے، لیکن اگر اب اس کے بڑھنے کی بات کی جا رہی ہے تو اس کے اسباب پر حکومت کو جواب دینا چاہیے۔

ایس آئی آر کے تحت دہلی میں ووٹروں کو جاری کیے گئے نوٹس پر کانگریس رکن پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن کی کارروائی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی شروع ہی سے ایس آئی آر کے عمل پر سوال اٹھاتے رہے ہیں اور اس سلسلے میں پریزنٹیشن بھی دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق اب بی جے پی کی وزیر اعلیٰ سمیت کئی بڑے افسران، سابق عہدیداروں اور معروف افراد کو بھی نوٹس ملنے کے بعد اس عمل کی سنگینی پر مزید بحث ہونی چاہیے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے ذریعے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی بڑے سیاسی رہنما کو نوٹس ملنے کے چند گھنٹوں میں معاملہ درست کر دیا جاتا ہے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ دور دراز گاؤں میں رہنے والے عام ووٹر کے معاملے میں بھی کیا اتنی ہی تیزی سے کارروائی ہوگی۔ بنگال کی ووٹر لسٹ کے تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ بڑی تعداد میں نام حذف کیے گئے اور بعد میں ان میں سے کچھ ووٹروں کو دوبارہ فہرست میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی اہل شہری کا حقِ رائے دہی متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے ممکنہ سیاسی تعاون سے متعلق سوال پر عمران پرتاپ گڑھی نے 2013 میں دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد ختم ہونے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ 2013 میں سماج وادی پارٹی نے کانگریس سے اتحاد کیوں ختم کیا تھا، اس کے بعد ہی مستقبل کی کسی سیاسی پیشکش پر غور کیا جا سکتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading