آئندہ 8 فروری کو دہلی میں اسمبلی انتخاب ہونا ہے، لیکن جگہ جگہ شہریت قانون کے خلاف ہو رہے مظاہرے کی وجہ سے الیکشن کمیشن متفکر ہے۔ شہریت قانون مخالف مظاہرے کی علامت بن چکے ’شاہین باغ مظاہرہ‘ کو لے کر کئی بار یہ خدشات ظاہر کیے گئے کہ اس صورت میں رائے دہندگان ووٹنگ میں دقت آ سکتی ہے، یا پھر انتخابی افسران کو پولنگ بوتھ پر سامان لے جانے میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان سبھی خدشات کو دیکھتے ہوئے آج الیکشن کمیشن کے افسران نے دہلی پولس کے ساتھ شاہین باغ کا دورہ کیا اور پورے حالات کا بغور جائزہ لیا۔ جائزہ لینے کے بعد الیکشن کمیشن افسران نے میڈیا کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے واضح لفظوں میں حالات کو اطمینان بخش قرار دیا۔
Delhi Chief Electoral Officer, Ranbir Singh: We had come here to review poll preparations. There are no obstacles in the route to 5 polling locations in Shaheen Bagh. I would like to appeal to all to cast their votes. https://t.co/2WRp3AT4Rb pic.twitter.com/GVg3xRVh9J
— ANI (@ANI) January 31, 2020
دہلی چیف الیکٹورل افسر رنبیر سنگھ نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ شاہین باغ ووٹنگ سے متعلق انتظامات کو دیکھنے پہنچے تھے اور یہاں کی پانچوں بوتھوں پر رائے دہندگان کو پہنچنے میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ نہیں ہے۔ ساتھ ہی رنبیر سنگھ نے عوام سے اپیل کی کہ سبھی اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے لیے ووٹنگ مراکز پر پہنچیں۔ رنبیر سنگھ نے یہ بھی واضح کیا کہ جو 5 ووٹنگ مراکز شاہین باغ میں ہیں وہاں سڑک پر کوئی رخنہ اندازی نہیں ہے۔
اسپیشل کمشنر (خفیہ) پروریر رنجن نے بھی شاہین باغ کے حالات سے متعلق میڈیا کے سامنے بیان دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس علاقے میں بغیر رکاوٹ الیکشن یقینی کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر جائزہ لیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ چیف الیکٹورل افسر اور انتخابی کمیشن نے حالات کا بغور جائزہ لیا۔ انتخابی افسران کے پولنگ بوتھ تک پہنچنے اور سامان کو وہاں تک پہنچانے کے لیے متبادل راستوں کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ افسران نے بتایا کہ امن برقرار رکھنے اور ووٹنگ کے لیے سازگار ماحول یقینی بنانے کے مقصد سے مظاہرین کے ساتھ بھی بات چیت کی گئی ہے۔ سڑک پر مظاہرہ کر رہی خواتین و دیگر لوگوں نے پولس کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو