لکھنؤ: اناؤ کی عصمت دری متاثرہ کو انصاف دلانے اور ملزم بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو دہلی کی تہاڑ جیل بھیجے جانے کی مانگ کے ساتھ کانگریس نے ریاست بھر میں دستخط مہم چلائی ہوئی ہے۔ گزشتہ روز اس مہم میں بڑی تعداد میں جواں سال خواتین نے بھی حصہ لیا جس کی کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی ستائش کی ہے۔
@INCUttarPradesh has placed these boards outside universities and colleges in UP #EnoughIsEnough pic.twitter.com/RekALUxG7i
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) August 3, 2019
واضح رہے کہ کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی اپیل پر پارٹی کی دستخط مہم کا آغاز 3 اگست کو ہوا اور یہ 6 اگست تک جاری رہے گی۔ مہم کا پہلا دن بے حد کامیاب رہا اور لڑکوں کے ساتھ لڑیوں نے خاطر خواہ تعداد میں اس میں شرکت کی۔
پرینکا گاندھی نے ٹوئٹ کر کے بتایا کہ لکھنؤ میں بڑی تعداد میں اناؤ کی بیٹی کو انصاف دلانے کے لئے بھاری تعداد میں لڑکیاں حصہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجرموں کی پشت پناہی اور عصمت دری جیسے سنگین جرم کو انجام دینے کے بعد بھی مجرموں کے دلوں میں کوئی خوف پیدا نہ ہونے کو چیلنج اسی ہمت اور یکجہتی سے دیا جا سکتا ہے۔
Girls are saying #EnoughIsEnough
Are you listening @myogiadityanath ?#UnnaoKiBeti@priyankagandhi @sushmitadevinc pic.twitter.com/L2Y8pPiNs6
— All India Mahila Congress (@MahilaCongress) August 3, 2019
قبل ازیں، اناؤ عصمت دری اور حادثہ معاملہ میں سپریم کورٹ کی طرف سے سنائے گئے فیصلہ اور رکن اسمبلی کو پارٹی سے معطل کرنے کے معاملہ میں بھی پرینکا گاندھی نے بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا۔
انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا، ’’اناؤ عصمت دری معاملہ اور متاثرہ کے پورے خاندان کو استحصال کا شکار بنانا، حکومت اور انتظامیہ کی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اب پردے کھل رہے ہیں اور بی جے پی رہنماؤں کے نام پر پولس کی لیپا پوتی منظر عام پر آ رہی ہے۔ کانگریس انصاف کے لئے پُر عزم ہے۔ یہ لڑائی ہم مضبوطی کے ساتھ لڑیں گے۔‘‘

کانگریس اسمبلی پارٹی کے لیڈر اجے کمار ’للو‘ نے کہا کہ متاثرہ کے قتل کی کوشش اور اس معاملے میں سپریم کورٹ نے تمام پانچ معاملات کو دہلی منتقل کرکے انصاف کی نئی امید جگائی ہے لیکن رکن اسمبلی کو جب تک اتر پردیش سے تہاڑ جیل نہیں بھیجا جاتا تب تک اس خاندان کی جان خطرے میں رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعہ نے ہندوستان کے عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے وہیں یوگی کی حکومت میں امن و قانون کی اصلی صورتحال کا پتہ چل گیا ہے ۔ایسے میں عام لوگوں کے سامنے اس معاملے میں انصاف کے لئے صدر سے مداخلت کرنے کی اپیل کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں بچا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
