امریکہ کی ریاست الاباما میں جمعرات کو نائٹروجن گیس کا استعمال کرتے ہوئے ایک مجرم کو سزائے موت دے دی گئی۔ یہ پہلا موقع ہے جب امریکہ میں اس طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے موت کی سزا دی گئی ہو۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ریاست کے اٹارنی جنرل نے ایک بیان میں کہا کہ کینتھ یوجین سمتھ نامی مجرم کو جمعرات کی شب مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجکر 25 منٹ پر مردہ قرار دیا گیا۔
اٹارنی جنرل سٹیو مارشل نے مزید کہا: ’انصاف فراہم کر دیا گیا۔ آج رات کینتھ سمتھ کو ان کے گھناؤنے فعل کے لیے سزائے موت دے دی گئی، جو انہوں نے 35 سال پہلے انجام دیا تھا۔‘
58 سالہ سمتھ کو 1988 میں ایک پادری کی بیوی الزبتھ سینیٹ کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ وہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے رہائی کے منتظر تھے۔
سمتھ اور ان کے ایک ساتھی جان پارکر کو 1988 میں الزبتھ سینیٹ کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا، جس کے لیے پادری نے دونوں کو ایک ایک ہزار ڈالر ادا کیے تھے۔ پارکر کو 2010 میں مہلک انجکشن کے ذریعے پھانسی دی گئی تھی۔
چارلس سینیٹ، جنہوں نے اپنی بیوی کے قتل کا بندوبست کیا تھا، نے اس قتل کے ایک ہفتے بعد خود کشی کر لی تھی۔