امریکہ میں ایک لاکھ سے زیادہ ہلاکتوں کا خدشہ: پھر بھی نیویارک کو لاک ڈاؤن نہ کرنے ٹرمپ کا فیصلہ

اتوار کو نیویارک میں کورونا سے 237 افراد ہلاک ہوئے- متعدی امراض کے امریکی ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا تجزیہ

واشنگٹن — متعدی امراض کے کنٹرول اور انسداد کے نگران ڈاکٹر فاؤچی نے اتوار کے روز کہا ہے کہ کرونا سے ایک لاکھ سے زیادہ امریکی ہلاک ہو سکتے ہیں، جو موجودہ تعداد کا 50 گنا ہے۔

ڈاکٹر فاوچی نے نیوز چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ عالمی وبائی مرض کرونا وائرس ایک لاکھ سے زیادہ امریکیوں کی جان لے سکتا ہے۔ یہ اندازہ مختلف ماڈلز کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک سرکاری طور پر ایک لاکھ 24 ہزار متاثرین کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو ہزار ایک سو ہے۔ جس میں تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے وہ خاصا خوفناک ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پہلے ایک ہزار افراد ایک ماہ کے دوران ہلاک ہوئے، جب کہ بقیہ ایک ہزار دو دن میں ہلاک ہوئے ہیں۔

کرونا کے خلاف قائم ٹاسک فورس کے سربراہ اور نائب صدر مائیک پینس نے کہا کہ وہ اس مرض کے پھیلاؤ کے بارے میں جلد ہی سرکاری ڈیٹا جاری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک لاکھوں افراد کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں اور ان میں سے دس فی صد کے نتیجے مثبت آئے ہیں۔

دوسری طرف ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ امریکہ سرد بازاری کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ تاہم امریکی وزیر خزانہ منوچن نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد امریکی معیشت بڑی تیزی سے بحال ہونے کی اہلیت رکھتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے سنیچر کو رات گئے ٹویٹ کیا کہ ’قرنطینہ کی ضرورت نہیں ہو گی۔‘ اس ٹویٹ سے چند گھنٹے قبل انہوں نے نیویارک کو لاک ڈاؤن کرنے کی تجویز دے کر سب کو حیران کر دیا تھا۔

خیال رہے نیویارک امریکہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز ہے اور سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ وہ دوسری ریاستوں خصوصاً فلوریڈا کے خدشات کہ نیویارک سے آنے والے افراد ان ریاستوں میں کورونا پھیلا سکتے ہیں کا جواب دینے کا سوچ رہے ہیں۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ وائرس سے بری طرح متاثر نیویارک کے لوگ شمال مشرق میں سیاحت کے لیے مشہور فلوریڈا کے لیے خطرہ ہیں۔

لیکن نیویارک کے گورنز انڈریو کیومو اور نیو جرسی کے گورنر نیڈ لیمونٹ کی جانب سے سخت وارننگ کہ مذکورہ اقدام افراتفری پھیلا سکتا ہے اور فنانشل مارکیٹ کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے صدر ٹرمپ نے نیویارک کو لاک ڈاؤن نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ ’ وائٹ ہاؤس کے کورونا وائرس ٹاسک فورس کی تجاویز پر اور نیویارک، نیو جرسی اور کنکٹیکٹ کے گورنرز سے مشاورت کے بعد میں نے ’یو ایس سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن’ سے کہا ہے کہ سخت ٹریول ایڈوائزیری جاری کرے جسے گورنرز مرکزی حکومت کی مشاورت سے لاگو کریں گے۔ قرنطینہ کی ضرورت نہیں۔‘

خیال رہے کورونا وائرس سے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد چھ لاکھ 40 ہزار سے زائد ہو گئی ہے جبکہ اب تک اس کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بھی 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔


کورونا وائرس سے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد چھ لاکھ چالیس ہزار سے زائد ہو گئی ہے (فوٹو: ٹوئٹر)

دوسری جانب دنیا بھر میں وائرس کا شکار ہونے کے بعد صحتیاب ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 40 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

نیویارک کورونا سے بدترین متاثرہ ریاست

نیویارک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 53 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔ امریکہ میں اس وبا سے ایک لاکھ 22 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں جو کہ دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہیں۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق نیویارک میں سنیچر کو کورونا سے 155 اموات رپورٹ ہوئیں جس کے بعد ریاست میں ہلاک افراد کی تعداد617 ہو گئی ہے۔

امریکہ میں اب تک کورونا سے دو ہزار ایک سو 47 افراد ہلاک ہیں۔ نیویارک کی پڑوسی ریاست نیو جرسی میں اب تک 11 ہزار ایک سو کورونا کے کیسز سامنے آئے ہیں۔

این این سے بات کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ عالمی وبائی مرض کرونا وائرس ایک لاکھ سے زیادہ امریکیوں کی جان لے سکتا ہے۔ یہ اندازہ مختلف ماڈلز کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک سرکاری طور پر ایک لاکھ 24 ہزار متاثرین کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو ہزار ایک سو ہے۔ جس میں تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے وہ خاصا خوفناک ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پہلے ایک ہزار افراد ایک ماہ کے دوران ہلاک ہوئے، جب کہ بقیہ ایک ہزار دو دن میں ہلاک ہوئے ہیں۔

کرونا کے خلاف قائم ٹاسک فورس کے سربراہ اور نائب صدر مائیک پینس نے کہا کہ وہ اس مرض کے پھیلاؤ کے بارے میں جلد ہی سرکاری ڈیٹا جاری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک لاکھوں افراد کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں اور ان میں سے دس فی صد کے نتیجے مثبت آئے ہیں۔

دوسری طرف ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ امریکہ سرد بازاری کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ تاہم امریکی وزیر خزانہ منوچن نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد امریکی معیشت بڑی تیزی سے بحال ہونے کی اہلیت رکھتی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading