اکولہ :(سیداسرار حسین) مورخہ 11ڈسمبر رات 9 بجے مسجد مومن پورہ اکولہ میں جماعت اسلامی ہند کی جانب سے بابری مسجد ، مقدمہ، فیصلہ اور مستقبل کا لائحہ عمل اس عنوان پر ایک اہم ترین خطاب عام کا انعقاد کیا گیا جس میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے معاون کنوئنر اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوئینر جناب ڈاکٹر قاسم رسول الیاس صاحب نے شرکت کی اس موقع پر قاضی دارالقضاء اکولہ مفتی اشفاق قاسمی صاحب نے بھی خطاب کیا ۔

خطاب عام کا آغاز قاری مسعود صاحب کی تلاوت قرآن سے ہوا پھر مفتی اشفاق قاسمی صاحب نے مختصر گفتگو فرمائی بعد اذاں ڈاکٹر قاسم رسول الیاس صاحب نے پُرہجموم مجموعہ سے خطاب کرتے ہوئے بابری مسجد، کے متعلق تمام تفصیلات پیش کی کہ کس طرح کے 1949 سے سازشوں کا آغاز ہوا اور نقائص سے بھر پور فیصلہ سپریم کورٹ نے سنایا ۔ڈاکٹر صاحب نے تمام تفصیلات کو پیش کرنے کے بعد ریویو پٹیشن دائر کرنے کے پروسرجر اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے لیگل سیل کی خدمات کا ذکر کیا کہ کس طرح اس نے پورے فیصلہ کا مطالعہ کیا اور ماہرین کے زیر نگرانی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں موجود نقائص جو آئین کے دیگر دفعات سے ٹکراتے ہیں انہیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم مضبوط تیاری کے ساتھ ریرویو پیٹیشن داخل کرچکے ہیں ۔
مستقبل کے لائحہ عمل پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر قاسم رسول الیاس صاحب نے مکمل عزم و حوصلہ سے کہا کہ الله ہمارے ساتھ ہے ۔۔ساتھ ہی حکومت کے غیر آئینی حربوں سے امت مسلمہ دل شکستہ نہیں ہونا چاہئے ۔چاہے پھر شہرہت ترمیمی بل ہوا یا این ار سی کا مسئلہ ۔ دراصل حکومت امت کو اضطراب میں مبتلہ کرنا چاہتی ہے ہم تاریخ کو نظر میں رکھکر اور الله پر مکمل توکل کے زریعے ہر حربے کا ناکام بناسکتے ہیں ۔
اس خطاب عام میں مردوں کے ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں خواتین نے بھی شرکت کی