ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان المبارک کی دستک کے ساتھ اورنگ آباد شہر کے خوشگوار ماحول میں خوف پیدا کرنے کی کوشش گزشتہ دنوں کی گی ہے اور پھر سے فرقہ پرست عناصر سرگرم ہوئے ہیں.
11 مئی 2018 کے فرقہ وارانہ فساد کا واقعہ ابھی ٹھیک سے بھولے بھی نہیں ہے حارث قادری کی دردناک موت آج بھی سبھی کا سینہ پھاڑتی ہے حارث قادری کے افراد خاندان انصاف کے منتظر ہیں کیونکہ اب تک معلوم نہیں ہو سکا کہ حارث کی موت کے اصل ذمہ دار کون ہے اور فسادات کی رات حارث کو گولی لگنے سے موت واقع ہوگئی تھی اسی خیال میں والدین اپنے نوجوان حارثوں کو سینے سے چپکا تے ہےکیونکہ بات ہی کچھ ایسی ہے جس شہر کا سابق رکن پارلیمان چندر کانت کھیرے جیسا شخص فرقہ پرستوں کی پشت پناہی کرتا ہوں اسکے خلاف قانونی کارروائی کر نے کی کسی کی ہمت نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی نے ان غنڈہ عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی2019 پارلیمانی انتخابات کے دوران چندرکانت کھیرے کی تشہیر کیلئے حیدرآباد کے زہریلے ایم ایل اے ٹی راجہ کو اورنگ آباد شہر بلایا گیا تھا جو مسلم دشمنی اور غلیظ زبان کی وجہہ سے ہر بار منہ کے بل گرتا ہےاسے شہر میں بلاکر مسلمانوں کے خلاف بھونکنے کیلئے چھوڑ دیا گیا اسکے بعد بھرے جلسے میں 4 مئ فسادات کے ہیرو اور فسادات کے سزا یافتہ ملزم لچھو پہلوان کے ہاتھوں ٹی راجہ کو تلوار بطور تحفہ دے کر جلسے اور اسٹیج کی رونق بڑھائی گئی اور پولیس محکمہ اور الیکشن کمیشن کو کھلے عام چیلنج کیا جاتا ہے کہ ہمت ہے تو دیکھاو اپنے قانون کی طاقت!
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اور پولیس محکمے دونوں نے اسکا کوئی نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی کوئی کاروائی کی عوام بھی اب کوئی کاروائی کی امید چھوڑ چکی ہےکیونکہ پولیس نے آج تک 11 مئی فساد کی ایس آئی ٹی رپورٹ پر نہ کوئی کاروائی کی اور نہ ہی اسے منظر عام پہ لایا کیونکہ بی جے پی کے ہاتھوں ہر قدم پر رسوا ہوئیے قانون اور عدلیہ سے پرے شیوسینا کے سابق رکن پارلیمنٹ چندر کانت کھیرے نے اسی دوران ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں اپنی فرقہ پرست ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا میں صرف ہندوں کا لیڈر ہوں اور ان کی حفاظت میرا فرض ہے ان بیانات سے مسلمانوں کا کوئی سروکار نہیں مسلمانوں کو ایسے گندی ذہنیت کے لیڈر کی ضرورت بھی نہیں ہے مسلمانوں نے دستور ہند کے امن و اتحاد کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے اپنی سانسیں قانون و عدلیہ کے سپرد کی ان مسلمانوں نے اس بات کی پولیس محکمے سے امید ضرور لگائی ہونگی کہ ہر سال رمضان المبارک کے مینا بازار میں رکاوٹ ڈالنے والے اور غریب ٹھیلے والوں کی املاک کو نقصان پہنچانے والے چندر کانت کھیرے کے قریبی لچھو پہلوان پر پولیس محکمہ کارروائی ضرور کریگا کیونکہ ایک حارث قادری کو کھونے اور شہر کو آگ کے شعلے میں ڈھکیلنے کے بعد اب انتخابی جلسے میں سب کی موجودگی میں لچھو پہلوان کا ٹی را جا کو تلوار بطور تحفہ میں پیش کرنے مقصد کیا تھا؟؟ پولیس نے کاروائی کرنی چاہیے
پولیس محکمہ اور الیکشن کمیشن جہاں پل پل مسلمان پر قانونی شکنجہ کستا ہے کیا وہ ان پر کوئی کارروائی کرینگے؟ کیونکہ دو دن قبل ہی الیکشن کمیشن نے آئی اے ایس افسر محمد محسن کو معطل کیا ہے
محمد محسن کا قصور یہ تھا کہ انھوں نے وزیر اعظم کے ہیلی کاپٹر کی تلاشی لی تھی اور اسطرح کی کاروائی کرنے کی ہمت ایک مسلمان ہی کر سکتا ہے لیکن اس ایماندارانہ کارروائی کا انعام محمد محسن کو بطور معطلی مل جاتا ہے تو اس معطلی کے فیصلے کو الیکشن کمیشن نے منسوخ نہیں کرنا چاہیے بلکہ محمد محسن کو ہی چاہیے وہ اپنی آئی اے ایس کی ڈگری بطور احتجاج حکومت ہند کے منہ پر پھینکے….محمد محسن کے پاس نہ کوئی تلوار تھی اور نہ ہی تحفے میں آئی تھی اور نہ ہی محمد محسن نے کسی مذہب کے خلاف زہر اگلا تھا
اب سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اور پولیس محکمہ چندرکانت کھیرے کے ہوتے ہوئے لچھو پہلوان اور ٹی راجا پر خلاف قانونی کاروائی کریگا یا قانون کی پاسبانی کی ذمہ داری صرف مسلمانوں کی ہے اور قانون کا استعمال بھی صرف مسلمانوں کے لئے ہوگا…
