الیکشن کمیشن اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے انتخابی عمل کا مشاہدہ کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کی دعوت پر 20 ممالک کے نمائندے ہندوستان پہنچے ہیں ۔ ان میں روس، آسٹریلیا، سری لنکا، بھوٹان، کینیا، ملائشیا، متحدہ عرب امارات، میانمار اور کیکسیکو جیسے ممالک کے انتخابی انتظامی اداروں کے علاوہ عالمی جمہوریت اور انتخابی معاونین کے نمائندے بھی شامل تھے۔ عجیب بات ہے کہ الیکشن کمیشن پر آزادی کے بعد پہلی بار ہندوستان میں کڑی تنقیدیں ہوئی ہیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر چھیڑ چھاڑ کے کئی واقعات کو سامنے لایا گیا، وزیر اعظم مودی، اور ان کے خاص مشیر امت شاہ نے بار بار انتخابی اصولوں کو توڑا اس کی شکایت بھی الیکشن کمیشن تک پہنچائی گئی لیکن ہر بار الیکشن کمیشن نے دونوں کو کلین چٹ عطا کی۔ اکثر مقامات پر یہ ہوتا تھا کہ بٹن کسی ایک پر دبایا جاتا، لیکن ووٹ جاتا تھا صرف ایک مخصوص نشان پر۔ یہ بات ووٹروں کے لئے پریشان کن تھی۔ کئی مقامات پر یہ بھی ہوا کہ ایک مخصوص پارٹی کے لوگ ووٹروں کو ان کے مخصوص انتخابی نشان پر بٹن دبانے کی ترغیب دیتے ہوئے نظر آئے اور کئی مقامات پر اس بات کو لے کر جھڑپیں بھی ہوئیں۔

غرض یہ کہ انتخابی کمیشن پر ہر طرف سے اعتراضات ہوئے۔ اب جبکہ پولنگ کا آخری مرحلہ سامنے ہے تو اچانک الیکشن کمیشن کی جانب سے 20 ممالک کے نمائندوںکو ہندوستان کے آخر ی انتخابی مراحل کا مشاہدہ کرنے کی دعوت دی گئی اور یہ نمائندے ہندوستان پہنچ بھی گئے اور انہوں نے الیکشن کمیشن کی شان میں قصیدے گانا بھی شروع کردئے۔

ظاہر ہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ عمل ایک طرح سے اس بات کی صفائی پیش کرنے کے لئے ہے کہ دنیا بھر کے انتخابی انتظامی اداروں نے ہندوستانی انتخابی عمل کو سراہا ہے جبکہ ہندوستان میں الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پہلے چار مراحل میں جس طرح کی دھاندلیاں ہوئی ہیں اگر ان کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات صاف ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے انتخابات شفاف نہیں ہیں۔ اس کی مثالیں وہ ویڈیوز اور بیانات ہیں جو اس وقت ہمارے سامنے سوشل میڈیا پر گشت کرتے نظر آرہے ہیں اور معتبر اخباروں کی وہ رپورٹیں اور الیکٹرانک میڈیا کی وہ تصاویر اور فلمیں بھی ہیں جن میں انتخابی دھاندلیوں کو پیش کیا گیا ہے۔ اقتدار کی ہوس نے اخلاقی اقدار کو اتنا گرادیا ہے کہ یہاں ملک کی خاطر اپنا خون بہانے والوں کو بھی بخشا نہیں جارہا ہے اور ان پر بے تکے اور جھوٹے الزامات لگاکر اپنے لئے ووٹ بٹورنے کی ناپاک کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں۔
الیکشن کمیشن ایک آزاد ادارہ ہے اور وہ اپنے دائرے کار میں کام کرتا ہے ۔ اگر انتخابات کے دوران ، کوئی امیدوار انتخابی ضابطہ ٔ اخلاق کے خلاف جاتا ہے تو الیکشن کمیشن کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اس امیدوار کی نامزدگی رد کردے۔ لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ موجودہ انتخٰابات میں الیکشن کمیشن نے متعصب رول ادااکیا اور اکثر خلاف ورزیوں پر کوئی ایکشن نہیں لیا بلکہ الٹا کئی لوگوں کو کلین چٹ بھی عطا کردی۔ بی جے پی کے کئی امیدواروں نے کھل کر انتخابی ضابطۂ اخلاق کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی لیکن الیکشن کمیشن نے صرف ایک دو نوٹس ان کو بھیج کر خاموشی اختیار کرلی۔ جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان امیدواروں کی نامزدگی مسترد کردی جاتی ۔ آج ہمارے ملک کی حالت دیکھ کر خون کے آنسو رونے کو جی چاہتا ہے۔ ایک وہ دن بھی تھے جبکہ یہاں ہندو ، مسلم، سکھ، عیسائی سب بھائی بھائی بن کر ایک دوسرے کے لئے کھڑے ہوجاتے تھے اور آج یہ دن بھی دیکھنا پڑرہا ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ نفرت کا زہر اس قدر یہاں کی فضاؤں میں گھول دیا گیا ہے کہ انسانی خون ارزاں ہوکر رہ گیا ہے اور سرعام کسی کا قتل کردینا ایک عام بات ہوگئی ہے۔ ہندو اور مسلمان کے نام پر کچھ لوگ دیش کا ایک اور بٹوارہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کے لئے ملک بھر میں خانہ جنگی کا ماحول تیار کیا جارہا ہے۔ ان سب کے پیچھے کون ہے ، ان کا نام لینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ سب لوگ ان لوگوں سے اچھی طرح سے واقف ہیں۔

ان حالات میں عوام کو سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اقتدار کی کرسی تک کسی کو پہنچانا ہو تو وہ عوام کے اختیار میں ہوتا ہے۔ عوام اگر چاہیں تو اس ملک کو واپس سونے کی چڑیا میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ اقتدار ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں سونپے جو سچ مچ وطن کے تئیں مخلص ہوں اور عوام اور ملک کی بھلائی کے لئے بہت کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہوں۔ ایسے لوگوں سے دور ہٹیں جو ملک کا سودا کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ عوام کی محنت اور ان کے خوں پسینے کی کمائی کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں، جھوٹے اور کھوکھلے وعدے کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ تو محض جملے ہیں جنھیں کہنا پڑتا ہے۔ گویا ہم سب ان کے نزدیک نادان بچے ہیں جنھیں کہانیاں سنا کر بہلایا جارہا ہے۔ ہم کیسے ان لوگوں پر بھروسا کریں جو انتخابی وعدوں کو محض ایک جملہ کہہ کر بات ختم کردیں۔ایسی سیاسی جماعتیں دراصل ملک کے لئے سخت خطرے کا باعث ہیں اور ان کی وجہ سے پوری معیشت تباہ ہوسکتی ہے۔ صورتِ حال اتنی خطرناک ہوچکی ہے کہ اب اگر دوبارہ اقتدار انہی لوگوں کے ہاتھوں پہنچا تو ، ملک ایک اور تقسیم کی طرف بڑھ جائے گا اور کوئی کچھ بھی نہیں کرپائے گا۔

سید اکبر زاہد

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading