الیکشن اور ہمارا لائحہ عمل (مہاراشٹر کے تناظر میں)

اس پارلیمانی الیکشن میں سیکولر ڈیموکرسی کے تحفظ کیلئے مہاراشٹر اور کرناٹک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ 2019ء کے پارلیمانی الیکشن ہندوستان کی تاریخ کا اہم الیکشن مانا جارہا ہے، اسلئے ہمیں بہت زیادہ سنجیدگی سے اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔

مہاراشٹر میں سیکولر ووٹوں کو تقسیم ہونے سے بچانے کیلئے ہمیں تھوڑا upfront ہوکر کام کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں کرناٹک میں گزشتہ سال مئی کے اسمبلی الیکشن میں مسلمانوں نے عموماً خصوصاً جو حکمت عملی بنائی تھی اس پر ہمیں کام کرنے کی ضرورت ہے۔

کرناٹک کے تجربات:

کرناٹک کے مسلمانوں نے ریاستی سطح پر ایک مسلم متحدہ محاذ بنایا اور اس میں خصوصی طور پر مسجد کمیٹیوں کے ذریعہ کام لیا گیا۔ تقریباً تیرا لاکھ مسلم ووٹرس کے نام الیکشن سے قبل ووٹر لسٹ میں درج کرائے گئے تھے۔

الحمدللہ! مہاراشٹر میں مختلف مسلم تنظیموں کی کاوشوں سے تقریباً ۸۰ ہزار ووٹرس انرول ہوسکے ہیں، اور تادم تحریر یہ کام جاری ہے۔انرول مینٹ کیلئے بہت زیادہ وقت اب نہیں بچا ہے لیکن ابھی کچھ اہم کام ہم کرسکتے ہیں:

▪مسلمانوں کو ووٹ ڈالنے لگائیں

کرناٹک میں مسلم متحدہ محاذ کے ذریعہ سے یہ بہت اہم کام ہوا ہے، اور عام مسلمانوں میں اتنی بیداری پیدا ہوئی کہ لوگ عید بقر عید پر جس طرح ایک دوسرے کو کال کرتے ہیں بالکل اسی طرح الیکشن کے دن سب اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو کال کرکے دریافت کررہے تھے کہ ووٹ ڈالا گیا ہے یا نہیں؟
اس طرح کی بیداری کا ماحول مسلم جماعتیں اور تنظیمیں مہاراشٹرا میں پیدا کرسکتی ہیں۔

▪کرناٹک میں مسلم کمیونٹی نے تیسرا اہم کام یہ کیا تھا کہ جو لوگ الیکشن میں غیر ضروری طور پر کھڑے رہتے ہیں ان کو پرچہ نامزدگی واپس لینے کیلئے زبردست عوامی دباو بنایا گیاتھا۔ خود ایم آئی ایم پیچھے ہٹی تھی اور پاپولر فرنٹ جس نے پہلے ہر علاقے سے اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے وہ 5سیٹوں تک محدود ہوئے، نوہیرا شیخ نے ہر مقام پر اپنا امیدوار کھڑا کیا تھا لیکن صرف ایک مقام پر اسے 2ہزار ووٹ ملے تھے۔ یہ لابیئنگ اتنی زبردست تھی کہ صرف ایک مقام ہی ایسا تھا جہاں سیکولر ووٹ تقسیم ہوئے اور بی چے پی جیت سکی تھی۔واضح رہے کہ اس لابیئنگ میں سوشل میڈیا نے بہت اہم رول انجام دیا تھا۔ اسی طرح کی لابیئنگ کی مہاراشٹر میں بھی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

▪چوتھا اہم کام یہ بھی ہیکہ ایم آئی ایم اور دلتوں کی دوسری سیاسی پارٹیوں کے ساتھ بات کرکے انہیں اسٹیج کی سیاست سے نکل کر بوتھ لیول کی سیاست کرنے کیلئے کہا جانا چاہئے، اصل میں ونچت آگھاڑی میں موجود پارٹیوں کا کوئی core کیڈر بوتھ لیول پر نہیں ہوتا ہے، ایم آئی ایم، سماج وادی اور دیگر مسلم پارٹیوں کو بھی بھاشن بازی کی سیاست سے آگے بڑھ کر نوجوانوں کو انگیج کرنے اور بوتھ لیول پر کیڈر کو مضبوط بنانے کیلئے، ماڈل محلے اور بستیاں بنانے پر دھیان دینے کیلئے آمادہ کرنا چاہئے، اس کے بہتر نتائج مہاراشٹر کے اسمبلی الیکشن میں مل سکتے ہیں۔

📌ناندیڑ کی صورت حال:

ناندیڑ پارلیمانی حلقہ میں اس وقت کانگریس کے ایم پی ہیں، جو تقریباً نوے ہزار ووٹوں کی لیڈ سے چن کر آئے تھے۔ لیکن اس پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی نے پرتاپ راو پاٹل چکلی کر کو سیٹ دینا طئے کیا ہے، چکلی کر قندھار اسمبلی کانسٹیبٹیونسی کے مقبول عام لیڈر ہیں، اور ان کی شبیہ ایک سیکولر لیڈر کی ہے۔ دوسری جانب سماج وادی پارٹی کی جانب سے عبدالصمد صاحب کو ٹکٹ دینا طئے کیا گیا ہے بڑی تعداد میں مسلم ووٹ اور ناندیڑ کی باغبان برادری کے کچھ ووٹ ان کو مل سکتے ہیں، اور مقامی اخبارات میں یہ خبر بھی آئی ہیکہ بی ایس پی بھی عبدالصمد کو سپورٹ کرے گی، ناندیڑ میں بی ایس پی کا بھی ایک مخصوص ووٹ بنک ہے۔ اس طرح اگر سیکولر ووٹ تقسیم ہوں تو اسکا راست فائدہ بی جے پی کو ہوسکتا ہے۔

ناندیڑ کی مسلم قیادت کی ایک سوچ یہ بھی بنی ہیکہ کانگریس سے ایک اسمبلی کی سیٹ مسلم نمائندہ کیلئے مانگی جانی چاہئے اور اسی شرط پر کانگریس کی حمایت کی جانی چاہئے۔بہر حال ناندیڑ کے مسلمان کانگریس کو اپنی پارٹی سمجھتے ہیں اور شاید اسی لئے کانگریس سے گلے اور شکوے کرتے ہیں۔

ناندیڑ میں جماعت اسلامی اور دیگر مسلم تنظیمیں الیکشن اور مسلم ووٹوں پر زبردست اثر انداز ہوتی آئی ہے۔ خود جماعت اسلامی کا ایک چھوٹا سا صحیح لیکن ووٹ بنک ہے، اس سے قبل کے پارلیمانی الیکشن میں ویلفیئر پارٹی کو آٹھ ہزار آٹھ سو اٹھاسی 8888 ووٹ ملے تھے۔ اسکے علاوہ اس سے قبل کے اسمبلی الیکشن میں جماعت اسلامی کے موقف پر مسلم رائے منحصر رہی ہے۔

اس الیکشن میں امید ہیکہ جماعت اسلامی اور دیگر مسلم تنظیمیں اگر upfront ہوکر کام کرے تو سیکولر ووٹوں کو تقسیم ہونے سے بچانے میں موثر رول ادا کرسکتی ہیں۔

معزالرحمان، ناندیڑ

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading