کانگریس24، راشٹروادی کانگریس20، سوابھیمانی شیتکری۲، بہوجن وکاس اگھاڑی۱، اوریوا سوابھیمانی پارٹی ۱سیٹ پر انتخاب لڑیں گی
ممبئی: ریاست میں عظیم اتحاد کی تصویر صاف ہوگئی ہے، اس کا اعلان آج یہاں کانگریس، راشٹروادی کانگریس، شیتکری کامگار پکش، آرپی آئی کواڑے گروپ سمیت اتحاد میں شامل دیگر پارٹیوں کے لیڈران کی موجودگی میں ہوا۔ اس عظیم اتحاد کے درمیان سیٹوں کے بٹوارے کے مطابق کانگریس 24سیٹوں پر تو راشٹروادی کانگریس پارٹی20 سیٹوں پر اپنے امیدوار انتخابی میدان میں اتارے گی، جبکہ سوابھیمانی شیتکری سنگھٹنا ۲، بہوجن وکاس اگھاڑی ۱ اور یوا سوابھیمانی پارٹی ایک سیٹ پر اپنے امیدوار اتارے گی۔ اس عظیم اتحاد میں ریاست کی چھوٹی بڑی کل 56 پارٹیاں شامل ہیں۔ عظیم اتحاد میں شامل سوابھیمانی شیتکری کامگار سنگھٹنا کو ۴ میں سے ۲ سیٹیں دی گئی ہیں، یہ سیٹیں کہاں کی ہیں؟ ابھی اس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے، البتہ سانگلی یا اکولہ میں سے کوئی ایک سیٹ اسے دیئے جانے کی امید ظاہر کی جارہی ہے۔ جبکہ بہوجن وکاس اگھاڑی کو پالگھر کی سیٹ دی گئی ہے اور یوا سوابھیمانی پارٹی کو امراؤتی کی جگہ دی گئی ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ممبر پارلیمنٹ اشوک چوہان نے کہا کہ بی جے پی وشیوسینا کی الائنس ملک اور ریاست کے لئے ایک مصیبت ہے، جسے ختم کرنے کے لئے کانگریس، راشٹروادی کانگریس، شیتکری کامگار پارٹی، سوابھیمانی شیتکری سنگھٹنا، بہوجن وکاس اگھاڑی، پی آر پی، ریپبلکن پارٹی گوئی گروپ سمیت ریاست کی56پارٹیوں نے مشترکہ ومتحدہ طور پر عظیم اتحاد قائم کی ہے، جس کا مقصد بی جے پی وشیوسینا کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم اتحاد میں کچھ اور پارٹیوں کو شامل کرنے کی ہماری کوشش تھی، لیکن بی جے پی کی جانب سے سام دام دنڈ بھید کی سیاست کی جارہی ہے، جس پر کچھ پارٹیاں بلی چڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی بٹوارے کی سیاست کرتے ہوئے سیکولر ووٹوں کی تقسیم کی کوشش کررہی ہے۔ لیکن بی جے پی وشیوسینا جیسی فرقہ پرست پارٹیوں کو عوام بھرپور سبق سکھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی وشیوسینا نے گزشتہ الیکشن میں عوام سے جو وعدے کئے تھے، ان میں سے اس نے کوئی وعدہ پورا نہیں کیا ۔ جھوٹے وعدے کرکے اس نے عوام کو گمراہ کیا اور ملک کی سیاست کو فرقہ پرستی سے آلودہ کیا ہے۔اشوک چوہان نے کہا کہ یہ عظیم اتحاد کسانوں، محنت کشوں، خواتین، دلتوں، اقلیتوں، نوجوانوں اور محروموں کو ان کا حق دلانے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ یہ حکومت صرف جملہ بازی کررہی ہے۔ عوام میں اس حکومت کے تئیں زبردست ناراضگی ہے۔ یہ حکومت فرقہ پرستی کا زہر سماج میں گھول رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قرض معافی کے نام پر کسانوں کو دھوکہ دیا گیا۔ ریزرویشن کے معاملے میں مسلمانوں اور دھنگر سماج کو دھوکہ دیا گیا۔ اس ملک میں جمہوریت خطرے میں ہے، جسے بچانے کے لئے ہم سب ایک ساتھ آئے ہیں۔

راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر جینت پاٹل نے کہا کہ ملک کے وزیراعظم مودی خاموشی کے ساتھ پاکستان کے وزیراعظم کو مبارکباد دیتے ہیں۔ مودی دوہرا کردار نبھارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عظیم اتحاد میں سوابھیمانی سنگھنٹا ہمارے ساتھ ہے۔ اب ہم مزید طاقت کے ساتھ لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عظیم اتحاد میں بات چیت کے دوران کچھ لوگوں نے اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ ان کی کوشش تھی کہ یہ عظیم اتحاد نہ بنے۔ وہ بی جے پی وشیوسینا کو فائدہ پہونچانا چاہتے تھے، لیکن تمام سیکولر پارٹیوں کو ساتھ لے کر ہم نے یہ اتحاد قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس اتحاد میں شامل نہیں ہوئے ہیں وہ دراصل بی جے پی کے بی ٹیم ہیں۔ بی جے پی نے25 فیصد سیٹ ایسے لوگوں کو دیا ہے جو کانگریس، راشٹروادی کانگریس ودیگر پارٹیوں سے گئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بی جے پی میں سب کچھ ٹھیک ہے تو انہوں نے باہر کے لوگوں کو کیوں لیا؟ توڑ پھوڑ کی سیاست کیوں کی؟اجیت پوار نے کہا کہ ملک کے مفاد کے لئے ، آئین وجمہوریت کے تحفظ کے لئے ہم تمام سیکولر و ہم خیال پارٹیوں کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کررہے تھے، لیکن کچھ پارٹیو ںنے کچھ نہ کچھ کا بہانہ بناکر اس بات کی کوشش کررہے تھے کہ یہ اتحاد نہ قائم ہو۔ یہ لوگ بی جے پی کے بی ٹیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست بی جے پی وشیوسینا کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے کوشش کی جس کے تحت ہم نے سیکولر پارٹیوں کو ایک ساتھ لیا۔
شیتکری کامگار پارٹی کے جینت پاٹل نے کہا کہ سیکولر ووٹوں کی تقسیم کو روکنے کے لئے ہم نے اس فیصلہ کیا ہے کہ ہم پارلیمانی الیکشن نہیں لڑیں گے۔ اس انتخاب میں شیتکری کامگار پارٹی نے ایک بھی سیٹ نہیں مانگی۔ سیٹ سے زیادہ آئین کا تحفظ اہم ہے۔ راجو شیٹی نے کہا کہ ریاست میں تمام طبقات کے لوگ اس حکومت سے پریشان ہیں۔ تمام طبقات کے ساتھ حکومت ناانصافی کررہی ہے۔ اس پریس کانفرنس سے راجو شیٹی، پروفیسر جوگندر کواڑے، ہیتندر ٹھاکور، ایم ایل اے روی رانا وغیرہ نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر راشٹروادی کانگریس پارٹی کے چھگن بھجبل، اجیت پوار، نواب ملک، جیتندر اوہاڈ، کانگریس کی جانب سے محمد عارف نسیم خان، حسین دلوائی کے علاوہ56 پارٹیوں کے لیڈران بھی موجود تھے۔