اللہ تعالیٰ محنت و جدوجہد کرنے والوں کی قدر کرتا ہے: مفتی محمد خلیل الرحمن

ناندیڑ: 21دسمبر( شیخ اکرم) ممتاز و محترم عالم دین حضرت مفتی محمد خلیل الرحمن صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے انوارالمساجد میں خطبہ جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے محنت و جدوجہد کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مفتی صاحب نے کہا کہ اللہ تعالیٰ محنت و جدوجہد کرنے والوں کی قدر کرتا ہے اور جس چیز کے لئے محنت و جدوجہد کی جاتی ہے وہ انسان کو حاصل ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی و مدنی دور میں بے پناہ مصائب و آلام ، تکالیف و صعوبتیں برداشت کیں اور صحابہ کرامؓ کی بھی اس طرح تربیت کی کہ زندگی کے ہر شعبہ جات میں ماہرین و باکمال تیار ہوئے۔ صنعت و حرفت، تعلیم و تربیت، جنگی مہارت، جسمانی کثرت، تیراکی و گھوڑ سواری، سیاست و معیشت کے اصول، سماجی و اخلاقی پہلوﺅں وغیرہ کی طرف بھی اُمت کو راغب کیا۔ لیکن آج مسلمانوں نے اسلام کو چند مخصوص اعمال تک محدود کردیا۔ اسلام انسان کو غوروفکر کرنے اور محنت و مشقت کرکے اپنے آپ کو انسانیت کے لئے زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کی ترغیب دیتا ہے۔لیکن ہم صرف نماز پڑھنے، حج و عمرہ کرنے اور تھوڑا بہت صدقہ و خیرات کرنے پر ہی مطمئن ہیں۔ یہ دنیا دارالعمل ہے، اس دنیا میں چین و سکون اور اطمینان سے بیٹھے رہنا نادانی ہے اور سستی و کاہلی بیشمار برائیوں کی جڑ ہے۔ آج اُمت کو درپیش مسائل کی اہم وجہ سستی و کاہلی ہے۔ نوجوان رات کو دیر تک جاگنے اور صبح دیر سے اُٹھنے کا معمول بناچکے ہیں۔ جس کی وجہ سے نماز صرف چار وقت کی ہوکر رہ گئی ہے۔ فجر کی نماز میں مساجد ویران ہیں۔ آج مسلمان بھیک مانگنے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے لئے تیار ہیں لیکن فجر کی نماز پڑھ کر اس کی برکتیں حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ کیونکہ اس میں تھوڑی مشقت جھیلنی پڑتی ہے۔ انسان محنت و مشقت سے ترقی کرتا ہے۔

مفتی صاحب نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ یہودی پوری دنیا میں انتہائی قلیل تعداد میں موجود ہے اور ذلیل و لعنت کی ہوئی قوم ہے۔ لیکن محنت و مشقت اور غوروفکر کرنے کی عادی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ ایک طاقتور قوم بن چکی ہے۔ اگر ہمیں بھی اپنی حالت کو بدلنا ہو تو سب سے پہلے سستی و کاہلی کو دور کرنا ہوگا۔ اپنے آپ کو محنت و مشقت کا عادی بنانا ہوگا۔ اسلام کے بتائے ہوئے اُصول و تعلیمات کو اپنانا ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعاﺅں سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اُمت کے لئے بیشمار سہولیات وآسانیاں فراہم کی ہیں ۔ اس کے باوجود بھی اگر ہم اس سے نفع نہ اٹھا سکے تو پھر اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری کوئی قدر نہ ہوگی اور ہم آخرت میں نقصان اُٹھانے والوں میں شمار کئے جائیں گے۔ آخر میں مفتی صاحب نے شہر میں بڑھتے ہوئے بھکاریوں کی تعداد کو مسلمانوں کے لئے شرمناک قرار دیا اور اصحاب خیر و فلاحی تنظیموں سے بھی خواہش کی کہ مستحق افراد کو صرف صدقہ و خیرات ، راشن وغیرہ ہی نہ دیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اُن میں محنت و مشقت اور خود کفیل بننے کا داعیہ بھی پیدا کریں۔ تاکہ بھیک مانگنے اور ہاتھ پھیلانے سے انہیں کراہیت ہو۔ ہوم انڈسٹری کے ذریعہ تھوڑی سی تربیت کے بعد اُنہیں خودکفیل بنایا جاسکتا ہے۔ انہیں خودکفیل بنانا صدقہ دینے سے بہتر اور افضل ہے اور یہ بہترین صدقہ ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی و مدنی دور میں بے پناہ مصائب و آلام ، تکالیف و صعوبتیں برداشت کیں اور صحابہ کرامؓ کی بھی اس طرح تربیت کی کہ زندگی کے ہر شعبہ جات میں ماہرین و باکمال تیار ہوئے۔ صنعت و حرفت، تعلیم و تربیت، جنگی مہارت، جسمانی کثرت، تیراکی و گھوڑ سواری، سیاست و معیشت کے اصول، سماجی و اخلاقی پہلوﺅں وغیرہ کی طرف بھی اُمت کو راغب کیا۔ لیکن آج مسلمانوں نے اسلام کو چند مخصوص اعمال تک محدود کردیا۔ اسلام انسان کو غوروفکر کرنے اور محنت و مشقت کرکے اپنے آپ کو انسانیت کے لئے زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کی ترغیب دیتا ہے۔لیکن ہم صرف نماز پڑھنے، حج و عمرہ کرنے اور تھوڑا بہت صدقہ و خیرات کرنے پر ہی مطمئن ہیں۔ یہ دنیا دارالعمل ہے، اس دنیا میں چین و سکون اور اطمینان سے بیٹھے رہنا نادانی ہے اور سستی و کاہلی بیشمار برائیوں کی جڑ ہے۔ آج اُمت کو درپیش مسائل کی اہم وجہ سستی و کاہلی ہے۔ نوجوان رات کو دیر تک جاگنے اور صبح دیر سے اُٹھنے کا معمول بناچکے ہیں۔ جس کی وجہ سے نماز صرف چار وقت کی ہوکر رہ گئی ہے۔ فجر کی نماز میں مساجد ویران ہیں۔ آج مسلمان بھیک مانگنے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے لئے تیار ہیں لیکن فجر کی نماز پڑھ کر اس کی برکتیں حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ کیونکہ اس میں تھوڑی مشقت جھیلنی پڑتی ہے۔ انسان محنت و مشقت سے ترقی کرتا ہے۔

مفتی صاحب نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ یہودی پوری دنیا میں انتہائی قلیل تعداد میں موجود ہے اور ذلیل و لعنت کی ہوئی قوم ہے۔ لیکن محنت و مشقت اور غوروفکر کرنے کی عادی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ ایک طاقتور قوم بن چکی ہے۔ اگر ہمیں بھی اپنی حالت کو بدلنا ہو تو سب سے پہلے سستی و کاہلی کو دور کرنا ہوگا۔ اپنے آپ کو محنت و مشقت کا عادی بنانا ہوگا۔ اسلام کے بتائے ہوئے اُصول و تعلیمات کو اپنانا ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعاﺅں سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اُمت کے لئے بیشمار سہولیات وآسانیاں فراہم کی ہیں ۔ اس کے باوجود بھی اگر ہم اس سے نفع نہ اٹھا سکے تو پھر اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری کوئی قدر نہ ہوگی اور ہم آخرت میں نقصان اُٹھانے والوں میں شمار کئے جائیں گے۔ آخر میں مفتی صاحب نے شہر میں بڑھتے ہوئے بھکاریوں کی تعداد کو مسلمانوں کے لئے شرمناک قرار دیا اور اصحاب خیر و فلاحی تنظیموں سے بھی خواہش کی کہ مستحق افراد کو صرف صدقہ و خیرات ، راشن وغیرہ ہی نہ دیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اُن میں محنت و مشقت اور خود کفیل بننے کا داعیہ بھی پیدا کریں۔ تاکہ بھیک مانگنے اور ہاتھ پھیلانے سے انہیں کراہیت ہو۔ ہوم انڈسٹری کے ذریعہ تھوڑی سی تربیت کے بعد اُنہیں خودکفیل بنایا جاسکتا ہے۔ انہیں خودکفیل بنانا صدقہ دینے سے بہتر اور افضل ہے اور یہ بہترین صدقہ ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading