اصولوں کو نظرانداز کر کے اڈانی کو آبدوز منصوبہ دینے کی تیاری: کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ بحریہ کی بااختیار کمیٹی کی سفارشوں اور دفاعی خریداری کے عمل میں اصولوں کو نظرانداز کرتے ہوئے 45 ہزار کروڑ روپے کی آبدوز کی خریداری کا منصوبہ ’75 آئی‘ کا ٹھیکہ اڈانی ڈیفنس کے جوائنٹ وینچرز کو دینے کی تیاری کررہی ہے۔

کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے یہاں نامہ نگاروں کے ساتھ دستاویز دکھاتے ہوئے کہا کہ بحریہ کی بااختیار کمیٹی نے ’منصوبہ 75 آئی‘ کے لئے موصول ٹینڈر میں سے صرف مجگاؤں ڈاک لمٹیڈ اور ایل این ٹی کے ٹینڈر کو قانونی قرار دیتے ہوئے وزارت دفاع سے ان دونوں کے ناموں پر غور کرنے کی سفارش کی تھی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ وزارت دفاع کے ذریعہ سے حکومت بحریہ کو اڈانی ڈیفنس اور ہندوستان شپ یارڈ لمٹیڈ (ایچ ایس ایل) کے جوائنٹ وینچرز کو منصوبہ کا ٹھیکہ دینے کے لئے دباؤ بنارہی ہے۔اس معاملے پر جمعہ کو وزارت دفاع کو غور کرنا ہے۔

سرجے والا نے کہا کہ منصوبہ کے لئے گزشتہ برس اپریل میں دلچسپی کے خط طلب کئے گئے تھے۔ اس کے تحت چھ آبدوزوں کو بنانا ہےجن میں پٹرول اور ڈیزل دونوں سے چلنے والی آبدوزیں شامل ہیں۔ منصوبہ کا تخمینہ 45 ہزار روپے لگایا گیا ہے۔

سرجے والا نے حکومت پر اپنے صنعت کار دوستوں کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ دلچسپی کے خط جمع کرانے کی آخری تاریخ 11 ستمبر 2019 تھی جبکہ ایچ ایس ایل اور اڈانی ڈیفنس کا جوائنٹ وینچر 28 ستمبر تک بنا ہی نہیں تھا۔ خود ایچ ایس ایل کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائرکٹر نے 28 ستمبر کو نامہ نگاروں کی کانفرنس میں کہا تھا کہ اس وقت اڈانی ڈیفنس کے ساتھ مشترکہ وینچرز بنانے کا عمل جاری تھا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading