اس ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں نے ورلڈکپ میں جان بوجھ کر خراب مظاہرہ کیا

کابل۔کرکٹ ورلڈ کپ میں شریک ہوئی افغانستان کی ٹیم سے خواہ بہت زیادہ امیدیں وابستہ نہیں تھیں ، لیکن ٹیم کے توازن کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ایک دو میچ جیتنے میں ضرور کامیاب ہو جائے گی ۔ مگر ایسا نہیں ہوسکا اور افغانستان کو اپنے سبھی 9 میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑ گیا ۔ اس سے بھی خراب بات یہ ہوئی کہ ٹیم کے اندر اختلافات کی خبروں نے طول پکڑلیا ۔ یہاں تک کہ سلامی بلے باز اور وکٹ کیپر محمد شہزاد نے خود کو پوری طرح فٹ بتاتے ہوئے ورلڈ کپ سے باہر کردینے کا بھی ٹیم انتظامیہ پر الزام لگادیا ۔

اب جبکہ ٹیم کی کپتانی نوجوان گیند باز راشد خان کے ہاتھوں میں سونپ دی گئی ہے تو ورلڈ کپ میں کپتان رہے گلبدین نائب نے بڑا انکشاف کیا ہے ۔ ورلڈ کپ میں ٹیم کم سے کم تین مواقع پر جیت کے قریب پہنچی تھی ، لیکن جیت نہیں سکی ۔ ٹورنامنٹ سے ٹھیک پہلے کپتان بنائے گئے گلبدین کو اس کا ذمہ دار مانا جارہا ہے کہ وہ اہم مواقع پر ٹیم کو دباو سے باہر نہیں نکال سکے ۔ حالانکہ نائب نے اب ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں پر بڑے الزامات عائد کئے ہیں کہ انہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ نہیں دیا ۔ گلبدین کو کپتانی سے ہٹاکر تینوں فارمیٹ کیلئے راشد خان کو نیا کپتان بنایا گیا ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading