ممبئی ۔1۔جنوری ۔ہندوستانی سنیما میں قادر خان کو ایک ایسے کثیر جہتی آرٹسٹ کے طور پر یاد کیا جائے گا جنہوں نے مکالمہ نگار ، رائٹر، ویلن ، کامیڈین کردار اداکار کے طور پر ناظرین کے درمیان اپنی ایک منفرد شناخت بنائی۔ قادر خان کی اداکاری کی ایک خصوصیت یہ رہی کہ وہ کسی بھی طرح کے کردار کے لئے موزوں تھے۔ فلم قلی اور وردی میں ایک سفاکانہ ویلن کا کردار ہو یا پھر ’قرض چکانا ہے، جیسی کرنی ویسی بھرنی ‘ فلم میں بہترین اداکاری یا پھر ’باپ نمبري بیٹا دس نمبري اور پیار کا دیوتا‘ جیسی فلموں میں مزاحیہ اداکاری، ان تمام کرداروں میں ان کا کوئی جواب نہیں ہے۔قادر خان کی پیدائش 22 اکتوبر 1937 کو کابل، افغانستان میں ہوئی تھی۔ عثمانہ یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے عربی زبان کی تربیت کے لئے ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ قادر خان نے بطور پروفیسراپنے کیریئرکی شروعات کی۔ اس دوران، قادر خان کالج میں منعقد ہونے والے ڈراموں میں حصہ بھی لیا کرتے تھے ۔ ایک دفعہ کالج کی سالانہ تقریب میں قادر خان کو کام کرنے کا موقع ملا۔ اس تقریب میں اداکار دلیپ کمار ،قادر خان کی اداکاری سے کافی متاثر ہوئے اور انہیں اپنی فلم سگينہ میں کام کرنے کی پیشکش کردی.اپنے 43 سال کے فلمی کیریئر میں انہوں نے 300 سے زائد فلموں میں کام کیا اور تقریبا 250 فلموں کے ڈائیلاگ لکھے۔ وہ معاون اداکار، ویلن، کامیڈین اور کریکٹر ایکٹر ہر قسم کے کردار میں خود کو مکمل طور ڈھال لیتے تھے۔
انہوں نے 1970 اور 1980 کی دہائی میں کئی فلموں کی اسکرپٹ اور ڈائیلاگ لکھے تھے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔ سال 1974 میں آنے والی فلم ’سگينا‘ سے انہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا، لیکن اس سے انہیں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی اور وہ فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانے کیلئے جدوجہد کرتے رہے۔