لکھنؤ: بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 150 ویں جینتی کے موقع پر اترپردیش اسمبلی کے 36 گھنٹوں کے لئے بلائے گئے خصوصی اجلاس کا اپوزیشن کی جانب سے مکمل طور پر بائیکاٹ کرنے کے فیصلے پر اسمبلی کے اسپیکر ہردے نارائن دکشت و زیر اعلی ایوگی آدتیہ نے بدھ کو اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے لئے اپوزیشن کی مذمت کی۔
اسمبلی اسپیکر نے 36 گھنٹوں کے غیر منقطع اسمبلی کے سیشن کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ یہ کافی مایوس کن ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں نے گاندھی جینتی کے موقع پر اسمبلی کے خصوصی اجلاس بلانے کے حکومت کے فیصلے پر رضا مندی کا اظہار کرتے ہوئے اس میں شمولیت کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اچانک انہوں نے بغیر کوئی وجہ بتائے اسمبلی کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کے بائیکاٹ کے فیصلے کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن دریودھن کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسمبلی کا بائیکاٹ کر کے اپوزیشن نے باپو کی توہین کی ہے۔ اسمبلی سے خطاب کرے دوارن وزیر اعلی نے اپنی حکومت کی حصولیابیوں کا بھی ذکر کیا۔
مہاتما گاندھی کو ان کے 150 ویں یوم پیدائش کے موقع پر خراج پیش کرنے کےبعد دکشت نے کہا کہ اب اسمبلی میں 36 گھنٹوں میں مستحکم ترقی کے لئے اقوام متحدہ کے 16 نکاتی چارٹر پر بحث کی جائے گی۔ جو کہ بابائے قوم کا خواب تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ریکارڈ ہوگا کہ کسی ہاوس کی بغیر کسی انقطاع کے اتنے لمبے وقت تک کارروائی چلی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ کافی مناسب ہوتا کہ اپوزیشن کے اراکین بھی اس میں شرکت کرتے اور مختلف مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے۔ اسمبلی میں ہونے والی ڈبیٹ کا ریکارڈ کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں افراد اس موقع پر اراکین اسمبلی کے ذریعہ دکھائی گئی سنجیدگی کو دیکھ سکیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
