از:✍️ محمد رضوان الدین حسینی
جب سے بی جے پی نے ہندوستان کی باگ ڈور سنبھالی ہے، تب سے ایک خطرناک رجحان نے جنم لیا ہے: اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منظم سازشیں، بے بنیاد الزامات، اور ناحق مسلم نوجوانوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کا سلسلہ۔ مودی حکومت اور اس کی ہم نوا میڈیا نے نفرت کی آگ بھڑکانے کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ سچ کو چھپانا، مسجد اور مندر کے نام پر جذبات بھڑکانا، اور عام ہندو بھائیوں کے سامنے مسلمانوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کرنا ان کا پسندیدہ ہتھیار ہے۔ انتخابات میں کامیابی کے لیے مذہبی جذبات سے کھلواڑ اب ان کی فطرت بن چکی ہے۔
گزشتہ دو برسوں سے یہ نفرت انگیز مہم مزید شدت اختیار کر چکی ہے۔ مسلمانوں کو شدت پسند اور دہشت گرد ثابت کرنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یاد کیجیے، پچھلے سال ہی “دی کیرالا اسٹوری” اور “دی کشمیر فائلس” جیسی فلمیں بنائی گئیں، جنہوں نے جھوٹ کا سہارا لے کر اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان فلموں کی حقیقت بعد میں سامنے آ چکی ہے۔
اب ایک اور فلم "ادے پور فائلس” کا ٹریلر سامنے آیا ہے، جو شرمناک اور افسوس ناک حد تک نفرت سے بھرا ہوا ہے۔ اس فلم میں حقائق کو مسخ کیا گیا اور اسلام و مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کی کھلی سازش کی گئی۔
اورنگ زیب رح کی شخصیت تراشی
اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کو ظلم کی علامت بنا کر پیش کیا گیا، جو تاریخ سے صریح بددیانتی ہے۔
گیان واپی
گیانواپی جیسے حساس مسئلے پر جھوٹ گھڑا گیا . پولیس افسروں نے جب عدالت کا فیصلہ آیا تو پرامن طریقہ پر مسلمانوں کو مسجد سے باہر نکالا لیکن ٹریلر میں اس کے برعکس دکھایا.گیا،
مدارس کو بدنام کرنے کی سازش
ایشیا کا عظیم دینی ادارہ دار العلوم دیوبند کو دہشت گردی کی نرسری کے طور پر دکھایا گیا، تاکہ مسلمانوں کے تعلیمی و مذہبی مراکز کو بدنام کیا جا سکے۔
سب سے شرمناک بات بزرگ اور باوقار عالم دین حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب کو شدت پسند عقائد کا حامی بنا کر پیش کیا گیا، جو نہ صرف ان کی توہین بلکہ پورے علمی و روحانی ورثے پر حملہ ہے۔
*مقدس شخصیات کی شان میں گستاخی*
حد تو یہ ہوئی کہ ٹریلر میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کی گئی اور خود نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں بھی کھلی بے ادبی اور گستاخانہ جملے استعمال کیے گئے، جو ہر مسلمان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
مزید برآں مدارس و علمائے کرام کو فحاشی سے جوڑ کر داڑھی والے شخص کو بچے کے ساتھ بدفعلی کرتے دکھایا گیا — جو کھلا جھوٹ اور انتہائی شرمناک الزام ہے۔
ٹریلر کا اختتام
سر تن سے جدا جیسے اشتعال انگیز نعروں پر کیا گیا، تاکہ ہندو بھائیوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکائی جا سکے۔یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے کہ تاریخ کو مسخ کیا جائے، سچ کو چھپایا جائے، اور ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو نقصان پہنچا کر سیاسی مفادات حاصل کیے جائیں۔
ہم کب تک خاموش رہیں گے؟
یہ زہریلا پروپیگنڈہ نہ صرف مسلمانوں کے خلاف ہے بلکہ ہندوستان کے سیکولر آئین پر بھی کھلا حملہ ہے۔ ضروری ہے کہ تمام مسلم تنظیمیں، سنجیدہ جمہوری اور سیکولر شہری، وکلاء اور سماجی کارکن اس فلم کی ریلیز پر قانونی چارہ جوئی کریں، سنسر بورڈ اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں، اور اس مکروہ سازش کو روکنے کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ہم سب کو، بحیثیت مسلمان اور ہندوستانی شہری، اس گھناؤنے پروپیگنڈے کی کھل کر مذمت کرنی چاہیے۔تمام انصاف پسند شہری اس کا بائیکاٹ کریں اور اپنی آواز میڈیا، عدالت اور عوام تک پہنچائیں تاکہ نفرت کی اس آگ کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔یہ وقت اتحاد، بصیرت اور جرأت کے ساتھ حق کے لیے کھڑے ہونے کا ہے۔