اسرائیل اور غزہ دونوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ایسے میں اسرائیلی فوج نے متنبہ کیا ہے کہ ’لڑائی میں شدت آئے گی‘ ۔ ترجمان لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) جوناتھن کونریکس نے ایک ویڈیو اپ ڈیٹ میں کہا ’ہمیں بہت زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تاہم، یہ ہمیں نہیں روکے گا اور یہ ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرے گا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ انھیں امید ہے کہ لڑائی میں شدت آنے کے بعد بھی اسرائیل کی حمایت جاری رہے گی۔
انھوں نے کہا، ’ہم امید کرتے ہیں کہ لڑائی شدت اختیار کرنے اور غزہ کی پٹی سے نکلنے والے مناظر کو سمجھنا اور ان سے نمٹنا زیادہ مشکل ہو جائے گا۔‘ اسرائیلی ڈیفینس فورسز نے غزہ کے ارد گرد کی رکاوٹوں کو دوبارہ تعمیر کیا ہے۔ غزہ کی سرحد کے قریب ’پیادہ فوج، بکتر بند فوجی، توپ خانے کی کور‘ اور 300،000 ریزرو اہلکار بھی بھیجے ہیں۔
اسرائیل کے قریب امریکی طیارہ بردار جہاز کی موجودگی غزہ میں قتلِ عام کا باعث بنے گا: طیب
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے خطے میں طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پر امریکہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے غزہ میں ’سنگین قتل عام‘ ہو گا۔ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اتوار کو اسرائیل کی حمایت کا وعدہ کیا اور کہا کہ امریکہ اپنے طیارہ بردار جنگی جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو اسرائیل کے قریب لے جائے گا۔
اردوغان نے پوچھا، ’امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اسرائیل کے قریب کیا کرے گا اور وہ کیوں آئے گا؟ اس پر سوار کشتیاں اور طیارے کیا کریں گے؟ وہ غزہ اور اس کے ماحول پر حملہ کریں گے اور وہاں سنگین قتل عام کے لیے اقدامات کریں گے؟‘
اردوغان نے اس سے قبل اسرائیل اور فلسطینی افواج کے درمیان امن کو یقینی بنانے کے لیے ثالثی کے لیے اپنے ملک کی آمادگی پیش کی تھی۔